ایک رات میرے خاوند کو میری طلب ہوئی انہوں نے مجھے اپنے قریب بلایا، ناراض ہونے کی وجہ سے میں نے انکار کردیا، اور انکے بار بار بلانے پر بھی میں نہ مانی، جس پر شدید غصے میں آکر ان کے منہ سے نکلا "اگر میرے پاس نہ آئی تو طلاق" ساتھ ہی خاموش ہو گئے، اور کمرے سے باہر نکل گئے، یہ سب بس زبان کی پھسلن تھی اور کچھ نہیں تھا، اب ہماری اس بارے میں رہنمائی فرمائیں، میں نے سنا ہے ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی؟
صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے اسے اپنے قریب بلانے پر اس کے قریب نہ جانے کی وجہ سے غصہ میں آکر مذکور الفاظ "اگر میرے پاس نہ آئی تو طلاق" ایک بار کہے، تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق معلق ہوچکی تھی، چنانچہ شوہر نے اگر اسی وقت فوری طور پر بیوی کے قریب نہ آنے پر طلاق معلق کی ہو، تو ایسی صورت میں چونکہ شوہر کے کمرے سے چلے جانے کی وجہ سےبیوی کا فوری طور پر شوہر کے قریب جانا نہیں پایا گیا اس لئے اس سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ دورانِ عدت سائلہ کے شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے، چنانچہ اگر سائلہ کے شوہر دورانِ عدت سائلہ سے"میں تم سے رجوع کرتاہوں" جیسے الفاظ زبانی طور پر کہہ دے یا میاں بیوی والا تعلق قائم کرلے، تو یہ رجوع درست ہوکر میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا، بصورتِ دیگر شوہر کا رجوع نہ کرنے کی صورت میں ایامِ عدت گزر جانے کے بعد یہ طلاق، طلاق بائن ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجائے گا،جس کے بعد میاں بیوی کا باہمی رضامندی سے ساتھ رہنے کے لئے، باضابطہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب وقبول کرتے ہوئےنکاح کرنا لازم ہوگا، بہر دو صورت آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو(2)طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا، اس لئے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط چاہیئے۔
کما فی ردالمحتار: الحاصل انہ اذا کان شرط الحنث عدمیا فان عجز عن شرط البر بفوات محلہ لایحنث و مع بقاء المحل حنث سواء کان المانع حسیا او لا کذا لو کان المانع مستحیلا عادۃ کمس السماء وان کان الشرط وجودیا لایحنث مطلقا ولو کان المانع غیر حسی فی المختار الخ (ج3 صـ383 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: وکذا لایرد مافی الخانیۃ ان لم آکل ھذا الرغیف الیوم فاکلہ غیرہ قبل الغروب لایحنث لانہ من فروع مسالۃ الکوز کما صرحوابہ لفوات المحل وھو الرغیف الخ (ج3 صـ383 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی الدرالمختار: ومفادہ الحنث فیمن حلف لیؤدین الیوم دینہ فعجز لفقرہ وفقد من یقرضہ خلافا لما بحثہ فی البحر فتدبر الخ (ج3 صـ383 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی الرد: تحت (قولہ: ونوی احدھما)(الی قولہ) ان لم تحضری فراشی ولم تراعینی فانت طالق فلم تحضر فراشہ ولکن راعتہ فانہ یحنث (الی قولہ) ان لم تحضری فراشی ولم تراعینی یتحقق شرط الحنث بنفی کل واحد بانفرادہ لانہ یصیر کانہ حلف علی کل واحد بعینہ الخ (ج3 صـ 732 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0