السلام علیکم حضرت !
میری زوجہ کے بھائی نے گھر میں معمولی مالی تکرار پر دو بہنوں اور والدہ کی موجودگی میں یہ الفاظ کہہ ڈالے “اگر میں اس گھر میں اپنی بیوی کو واپس لاؤں تو وہ میرے اوپر طلاق ہے” جبکہ اس واقعہ کے دوران اور ابھی بھی انکی بیوی اپنے والدین کی طرف ہیں ، مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں ۔
سائل کے بردار نسبتی نے اگر مذکور الفاظ "اگر میں اس گھر میں اپنی بیوی کو واپس لاؤں تو وہ میرے اوپر طلاق ہے" ایک بار کہے ہوں ، تو ان الفاظ سے شرعاً اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی معلق ہو چکی ہے ، جب کبھی وہ اپنی بیوی کو واپس اپنے گھر لے کر آئےگا تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی ، جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر کو دورانِ عدت رجوع کا حق حاصل ہوگا ، چنانچہ شوہر اگر دورانِ عدت قولاً یا عملاً رجوع کرلیتا ہے تو یہ رجوع درست ہو کر میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق بر قرار رہے گا ،ورنہ عدت کے دوران رجوع نہ کرنے کی وجہ سے یہ طلاق ، طلاقِ بائن بن کر دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا ، اور دوبارہ میاں و بیوی کی طرح ساتھ رہنے کے لئے باقاعدہ گواہان کی موجود گی میں باہمی رضامندی سے نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہوگا ، تاہم اگر سائل کا سالہ یہ چاہتاہو کہ اس کی بیوی دوبارہ گھر آجائے ، اور کوئی طلاق بھی واقع نہ ہو ، تو ایسی صورت میں چاہیئے کہ گھر کا کوئی دوسرا فرد از خود جاکر سالے کی بیوی کو گھر لے کر آجائے ، نیز اس تمام صورتِ حال سے سائل کا سالہ خاموش اور لا تعلق رہے ، تو ایسا کرنے سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔
کما فی الھندیۃ: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق الخ(کتاب الطلاق ،ج 1،ص 420 ،ط:ماجدیہ)۔
وفیھا ایضا: (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن الخ(ج 1،ص 348)
وفی الھدایۃ: الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي الخ(باب ایقاع الطلاق،ج 2،ص 61،ط: انعامیہ)۔
وفی التاتارخانیۃ : وفی واقعات الناطفی: رجل قال لامراتہ ان ادخلت فلانا بیتی او قال ان دخل فلان بیتی (الی قولہ) فانت طالق فالیمین فی الوجہ الاول علی ان یدخل بامرہ الخ(ج 5، ص 64،ط: رشیدیہ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0