کیا فرماتے ہیں علماء اکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایسی چیزوں کی تجارت کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ جس کا فروخت کردہ سامان عام طور سے معاصی میں استعمال ہوتا ہو ( جیسے : موبائل ، اسکرین ، وغیرہ ) آیا مکروہ ہے یا نہیں ؟ اگر مکروہ ہے تو تحریمی ہے یا تنزیہی ؟
واضح ہوکہ موبائل سمیت وہ تمام اشیاء جن کا جائز اور ناجائز دونوں طرح کا استعمال ممکن ہو،تو اس کی خرید و فروخت شرعاً جائز اور اس کی آمدن حلال ہوگی،البتہ اس کے غیر شرعی امور میں استعمال کرنے کا گناہ خود استعمال کرنے والوں کے ذمہ عائد ہوگا۔
کما فی رد المحتار تحت ( قولہ : لاتقوم بعینہ الخ ) یوخذ منہ ان المراد بما لاتقوم المعصیۃ بعینہ ما یحدث لہ بعد البیع وصف آخر یکون فیہ قیام المعصیۃ و ان ما تقوم بعینہ ما توجد فیہ علی وصفہ الموجود حالۃ البیع کالامرد و السلاح الخ ( ج 6 صـ 391 کتاب الحظر و الاباحۃ فصل فی البیع ط : ایچ ایم سعید ) ۔
و فی البحر الرائق : ( و جاز بیع العصیر من خمار ) لان المعصیۃ لاتقوم بعینہ بل بعد تغیرہ ( الی قولہ ) و لان العصیر یصلح لاشیاء کلھا جائزۃ شرعاً فیکون الفساد الی اختیارہ الخ ( ج 8 صـ 202 کتاب الکراھیۃ فصل فی البیع ط: ماجدیۃ ) ۔واللہ اعلم
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1