میں مسمیٰ امتیاز عالم کی شادی مسماۃ نور الصباء سے 2008ء میں ہوئی ، شادی کے تقریباً تین ماہ بعد مجھے پتہ چلا کہ میری بیوی کاکسی غیر شخص سے تعلق تھا، اور مجھے پتہ چلا تو میں نے اسکو منع کیا اور اُس سے عہد لیا کہ آئندہ ایسا تعلق نہیں رکھو گی، " اگر تم نے آئندہ ایسا تعلق رکھا تو میری طرف سے طلاق ہوگی، اور ایک نہیں ہوگی تین طلا ق ہونگی" اور یہ جملہ میں نے تین دفعہ دہرایا، اس وقت میری بیوی نے قرآنِ پاک اُٹھاکر عہد کیا تھا کہ آئندہ ایسا نہیں کرونگی، اسکے تقریباً تیرہ یا چودہ سال بعد دوبارہ مجھے پتہ چلا کہ وہ اب بھی اس شخص سے رابطے میں ہے، اور درمیان کے عرصہ میں بھی وہ رابطے میں رہی ، لیکن مجھے اسکی خبر نہیں تھی، میں نے اعتماد کیا تھا کہ وہ رابطہ نہیں کرے گی، اس تمام صورتحال کے مطابق شرعی حکم سے آگاہ فرمائیں کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ اگر طلاق واقع ہوگئی تو کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ہیں ؟ اور آئندہ ہمارے لئے شریعت کا کیا حکم ہے ؟
سائل مسمیٰ امتیاز عالم نے تقریباً چودہ سال قبل جب اپنی بیوی مسماۃ نور الصباء کو مذکور الفاظ " اگر تم نے آئندہ ایسا تعلق رکھا تو میری طرف سے طلاق ہوگی، اور ایک نہیں ہوگی تین طلا ق ہونگی"کہے تھے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں معلق ہو چکی تھیں، چنانچہ اس کے بعد جب سائل کی بیوی نے مذکور شخص سے تعلق قائم کیا تو اسی وقت سے سائل کی بیوی پر معلق کردہ تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی تھی، اس کے بعد سائل کی بیوی سائل کو مسئلہ سے لا علم رکھ کر بیوی کی طرح جتنا عرصہ ساتھ رہی ہے، گناہ گار ہوئی ہے، جس پر اسے بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل احتراز لازم ہے، جبکہ آخری مرتبہ ہمبستری کرنے کے بعد سے عدت شمار کی جائے گی،چنانچہ سائل کی بیوی تین ماہواریاں گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ۔
کما فی الفتاوىٰ الهندية: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق۔اھ (1/ 420)۔
و فیھا ایضاً: ولو قال لها: إن كلمت فلانا فأنت طالق وقال لها أيضا: إن كلمت إنسانا فأنت طالق فكلم فلانا طلقت تطليقتين۔اھ (1/ 428)۔
و فیھا ایضاً: ولو خلل الشرط فقال: أنت طالق إن دخلت الدار أنت طالق إن دخلت الدار أنت طالق إن دخلت الدار أو قدم الشرط ما لم تدخل لا يقع الطلاق فإذا دخلت وقعت ثلاث تطليقات بالاتفاق كذا في الخلاصة۔اھ (1/ 429)۔
و فی الھدایة: و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتین فی الامة لم تحل لہ حتٰی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا۔اھ (2/409)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0