کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آیا ایک مٹھی داڑھی رکھنا حدیث سے ثابت ہے؟ براہ ِکرم حدیث سے دلیل پیش کر کے تنازع کو ختم فرمادیں۔
ترمذی شریف میں ہے کہ نبی کریمﷺ اپنی داڑھی مبارک سے طولا و عرضاً بال کاٹا کرتے تھے اور بعض کتابوں میں شرح سرعۃ الاسلام کے حوالے سے یہ حدیث منقول ہے کہ اس کی مقدار ایک مٹھی کی حد تک ہوتی تھی، جبکہ حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنہ جو جلیل القدر صحابی اور سنت کا بہت زیادہ اتباع کرنے میں مشہور و معروف ہیں، ان سے متعلق بخاری میں یہ حدیث منقول ہے کہ جب حج یا عمرہ کرتے تو داڑھی کا جو حصہ ایک مٹھی سے زائد ہوتا اس کو کٹوا دیتے ، جبکہ اس کے برخلاف ایک مٹھی سے کم آپﷺ اور آپ کے صحابہ کرام میں سے کسی سے ثابت نہیں۔
ففی صحيح البخاري: عن ابن عمر، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "خالفوا المشركين: وفروا اللحى، و أحفوا الشوارب" وكان ابن عمر: «إذا حج أو اعتمر قبض على لحيته، فما فضل أخذه» اھ(7/ 160)۔
و فی سنن الترمذي: عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن النبي - صلى الله عليه وسلم - كان يأخذ من لحيته من عرضها وطولها. اھ(4/ 391)۔
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0