کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک انگوٹھی دی اور کہا کہ اُس میں ’’لااِلٰه إلا اللہ‘‘ لکھوا کر لاؤ، آپ نے راستہ میں سوچا کہ اذان میں ’’لاالٰه إلا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ہے اور اللہ پاک کے نام کے ساتھ حضرت محمدﷺ کا نام آتا ہے، اس لیے اس نے حکم دیا کہ اس میں ’’لاالٰه إلا اللہ محمد رسول اللہ‘‘لکھوا کر لاؤ، پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حکم دیا کہ انگوٹھی کے اندر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لکھ دو، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انگوٹھی حضرت محمدﷺ کو دے دی، حضرت محمدﷺ نے انگوٹھی دیکھ کر کہا کہ ابوبکر صدیقؓ میں نے’’ لا اِلٰه اِلا اللہ‘‘ لکھوانے کےلیے کہا تھا اور تم ’’لااِلٰه إلااِللہ محمد رسول اللہ ‘‘اور اپنا نام بھی لکھوا کر لے آئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے محمد ﷺ اپنی طرف سے لکھوایا ہے، اپنا نام نہیں لکھوایا، اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ اللہ پاک نے کہا کہ انگوٹھی کے اندر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام لکھ دو تو میں نے لکھ دیا۔ اب معلوم یہ کرنا کہ انگوٹھی میں’’ لااِلٰه إلا اللہ محمد رسول اللہ ابوبکر صدیق‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا انگوٹھی میں یہ سب ایسے ہی لکھا ہوا تھا تو کیا یہ بات کسی سند کے ساتھ ثابت ہے؟
نوٹ: میں نے دارلعلوم امجدیہ سے فتوی لیا ہے، انہوں نے تفسیرِ نعیمی اور تفسیر ِکبیر کی روایت سے فتویٰ دیا ہے کہ انگوٹھی پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کا نام بھی تھا، لیکن فتویٰ میں انہوں نے کوئی حوالہ درج نہیں کیا ،صرف اتنا لکھ دیا کہ تفسیرِ نعیمی اور تفسیرِ کبیر سے یہ بات درست ہے۔ اس فتویٰ سے میں مطمئن نہیں ہوں ۔ براہ ِمہربانی مکمل حوالے کے ساتھ تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
تفسیر ِکبیر میں یہ واقعہ ان الفاظ میں موجود ہے:
ترجمہ: نبی کریمﷺ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے اپنی انگوٹھی مبارک حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سپرد کر کے فرمایا کہ اس میں لکھوالو ’’لَا إِلہ إِلَّا اللَّہ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہ‘‘ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انگوٹھی ایک نقاش کو کندہ کرنے کے لیے دی اور کہا کہ اس میں’’لَا إِلَہ إِلَّا اللَّہ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہ‘‘ کا نقش بنا کردو تو نقاش نے اس کو لکھ دیا ، پھر حضرت ابوبکرؓ اس کو لے کر آنحضرت ﷺ کے دربار میں حاضر ہوئے ، آپﷺ نے اس میں ’’لَا إِلَہ إِلَّا اللَّہ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہ ابوبکر الصدیق‘‘ کے الفاظ لکھے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے اے ابوبکر! یہ زوائد کیا ہیں؟ تو حضرت ابوبکرؓ نےکہا یا رسول اللہﷺ! مجھے یہ بات گوارہ نہیں ہوئی کہ اللہ کے اسمِ گرامی اور آپ کے اسمِ گرامی کے درمیان تفریق ڈالوں، اس دوران جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ابوبکر کا نام میں نے خود لکھوایا، کیونکہ ان کو گوارہ نہیں ہوا کہ اللہ کے نام اور رسول اللہ ﷺ کے نام کے درمیان تفریق ڈالیں، پس اللہ کو بھی یہ بات گوارہ نہیں ہوئی کہ آپ کےاور ابوبکر کے نام کے درمیان تفریق ڈالیں۔ (۱/۱۵۳)۔
اور’’نزهة المجالس‘‘ میں بھی اس واقعہ کو تفسیر کبیر کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے ،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انگوٹھی میں ’’لَا إِلَہ إِلَّا اللَّہ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہ ابوبکر صدیق‘‘ لکھا گیا تھا ، جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی فضیلت کو بتا رہا ہے،مگر اس حدیث کی سند کسی کتاب میں نظر سے نہیں گزری اور نہ ہی یہ واقعہ کتبِ احادیث کی کسی معتبر کتاب میں دستیاب ہو سکا، اس لیے اس طرز کی انگوٹھی کو مسنون یا مستحب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جبکہ صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی کریم کی انگوٹھی میں جو تحریر تھی وہ صرف ’’محمد رسول اللہ‘‘ کی تھی جو مخصوص انداز میں کندہ کر کےبنائی گئی تھی، جس کی ترتیب یہ تھی کہ نیچے سے اوپر تین سطروں میں’’ محمد رسول اللہ‘‘مکتوب تھا۔
تفسير الرازي أو التفسير الكبير: رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ دَفَعَ خَاتَمَهُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: اكْتُبْ فِيهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَدَفَعَهُ إِلَى النَّقَّاشِ وَقَالَ: اكْتُبْ فِيهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَكَتَبَ النَّقَّاشُ فِيهِ ذَلِكَ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِالْخَاتَمِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَى النَّبِيُّ فِيهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا هَذِهِ الزَّوَائِدُ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَضِيتُ أَنْ أُفَرِّقَ اسْمَكَ عَنِ اسْمِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْبَاقِي فَمَا قُلْتُهُ، وَخَجِلَ أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا اسْمُ أَبِي بَكْرٍ فَكَتَبْتُهُ أَنَا لِأَنَّهُ مَا رَضِيَ أَنْ يُفَرِّقَ اسْمَكَ عَنِ اسْمِ اللَّهِ فَمَا رَضِيَ اللَّهُ أَنْ يُفَرِّقَ اسْمَهُ عَنِ اسْمِكَ اھ (1/ 153)۔
وفی سنن الترمذي: عن أنس بن مالك قال: كان نقش خاتم النبي - صلى الله عليه وسلم - محمد سطر، ورسول سطر، والله سطر. (3/ 281)
وفیه أیضاً: عن أنس بن مالك، قال: لما أراد نبي الله - صلى الله عليه وسلم - أن يكتب إلى العجم قيل له: إن العجم لا يقبلون إلا كتابا عليه خاتم فاصطنع خاتما، قال: فكأني أنظر إلى بياضه في كفه. هذا حديث حسن صحيح. (4/ 366)۔
وفی صحيح مسلم: عن أنس، أن النبي - صلى الله عليه وسلم - أراد أن يكتب إلى كسرى، وقيصر، والنجاشي، فقيل: إنهم لا يقبلون كتابا إلا بخاتم، «فصاغ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - خاتما حلقته فضة، ونقش فيه محمد رسول الله»(3/ 1657)۔
وفی تفسير النيسابوري، غرائب القرآن ورغائب الفرقان: روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - دفع خاتما إلى أبي بكر وقال: اكتب فيه «لا إله إلا الله» فدفعه إلى النقاش وقال: اكتب فيه «لا إله إلا الله محمد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - » فكتب النقاش ذلك، فأتى أبو بكر بذلك الخاتم إلى النبي - صلى الله عليه وسلم - فرأى النبي فيه «لا إله إلا الله محمد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أبو بكر الصديق» فقال: يا أبا بكر ما هذه الزوائد؟ فقال: يا رسول الله ما رضيت أن أفرق اسمك من اسم الله فما رضي الله أن يفرق اسمي عن اسمك. (1/ 80)۔
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0