کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن و حدیث سے صرف دو کلمے ثابت ہیں یعنی کلمۂ توحید و کلمۂ شہادت ، اس کے علاوہ جو چھ کلمات مشہور ہیں وہ صحیح احادیث سے ثابت نہیں، آیا اس شخص کا یہ کہنا صحیح ہے؟ براہِ کرم شش کلمات کا ثبوت احادیثِ صحیحہ و کتبِ مستندہ سے پیش فرمائیں۔
واضح ہو کہ شش کلمے جو مشہور اور معروف ہیں، اگرچہ ان کی تعداد، ان کے نام و ترتیب وغیرہ شرعاً فرض و واجب اور سنت میں سے کسی کے زمرہ میں نہیں آتے، ان کے نام ، تعداد اور ترتیب وغیرہ محض اس وجہ سے قائم کیے گئے ہیں تاکہ ان ناموں اور ترتیب کے اعتبار سے یاد کر کے ان مواقع میں پڑھناآسان ہو جائے جن میں پڑھنے کی نبی کریم نے تعلیم دی ہے اور اس پر جو فضائل بیان فرمائے ہیں وہ بھی حاصل کیے جا سکیں ، ان میں سے پہلے دو کلموں ( یعنی کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت) کو تو حصولِ ایمان میں بنیادی حیثیت حاصل ہے جبکہ دیگر چاروں حصولِ فضیلت اور تقویتِ ایمان کے لیے ہیں اور انہی وجوہات کی بناء پر بچوں کو شروع سے ہی یاد کروائے جاتے ہیں۔
اور جہاں تک ان کے الفاظ کے ثبوت کا تعلق ہے تو واضح ہو کہ پہلا کلمہ کنزالعمال میں ’’فی فضل الشھادتین‘‘ کے تحت ، دوسرا کلمہ بخاری شریف میں باب مایتخیر من الدعاء بعد التشھد کے تحت مذکور ہے:
ففی صحیح البخاری: ’’أشہد أن لا الہ الا اللہ و أشہد أن محمدا عبدہ و رسولہ‘‘(1/ 166)۔
تیسرا کلمہ: و فی الترغیب و الترھیب: وعن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صَلی اللہ علیہ وَسلم قال: من قال حین یأوی الی فراشہ: (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک، ولہ الحمدُ، وھو علی کل شئی قدیر، لا حول و لا قوۃ الا باللہ العلی العظم، سبحان اللہ، و الحمد للہ، و لا الہ الا اللہ، و اللہ اکبر) (1/ 390) و ھکذا فی صحیح مسلم ( ۱/۲۴۵)۔
چوتھا کلمہ جامع الترمذی ’’باب ما یقول اذا دخل السوق‘‘ کے تحت حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
و فی سنن الترمذی: أن رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - قال: من دخل السوق، فقال: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک و لہ الحمد یحی و یمیت، و ھو حی لا یموت، بیدہ الخیر و ھو علی کل شئی قدیر، کتب اللہ لہ ألف ألف حسنۃ، ومحا عنہ ألف ألف سیئۃ، و رفع لہ ألف ألف درجۃ. (5/ 367)کذا فی االترغیب و رواہ ابن ماجہ۔
پانچواں کلمہ بخاری شریف ’’کتاب الدعوات فی باب افضل الاستغفار‘‘ کے تحت حضرت شداد بن اوس سے مروی ہے:
و فی صحیح البخاری: شداد بن أوس - رضی اللہ عنہ - : عن النبی - صلی اللہ علیہ وسلم - : "سید الاستغفار أن تقول: اللھم أنت ربی لا الہ الا أنت، خلقتنی و انا عبدک، و انا علی عہدک و وعدک ما استطعت، أعوذ بک من شر ما صنعت، أبوء لک بنعمتک علی، و ابوء لک بذنبی فاغفر لی، فانہ لا یغفر الذنوب الا أنت " قال: «ومن قالہا من النہار موقنا بہا، فمات من یومہ قبل أن یمسی، فہو من أہل الجنۃ، ومن قالہا من اللیل و ھو موقن بہا، فمات قبل أن یصبح، فہو من أہل الجنۃ»(8/7 6)۔
جبکہ چھٹا کلمہ مسند احمد (ص:۴۵۱/۱) اور ترمذی میں ( ۲/۱۸) کے تحت مذکور ہے اس کے علاوہ دیگر کتب حدیث سے بھی ان کا ثبوت ملتاہے۔ واللہ أعلم بالصواب
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0