السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے گھر میں کچھ پریشانی آئی ، جو کہ بیماری کی صورت میں تھی تو ہم نے اُس بیمارکو ڈاکٹر وں تک پہنچا دیا، لیکن کوئی دوا اور دم اثر نہیں کر رہا تھا، جبکہ آخر ہم لوگ مجبوراً ایک عورت جس کا آباؤ اجداد سے یہ پیشہ ہے کہ ناخن میں دیکھتی ہے کہ اس کو کیا اثر ہے؟ اس کے بعد ہمارے ہی گھر کی بچی کو بلایا اور اس کو پہلے عورت کی تصویر نظر آئی اور بعد میں جس پر تعویذ ہوا تھا اس کی، یعنی بیمار کی اور بعد میں جہاں تعویذ دفن ہوئے تھے اس جگہ اور اس کے گھر کی جس نے تعویذ کرائے تھے۔
بہر حال جو تفصیل میں نے لکھی ہے اس کے مطابق یہ چیزیں شرک میں شامل تو نہیں ہے؟ کیونکہ ہم گہنگار بے علم لوگ ہیں، براہ ِکرم راہنمائی فرمائیں۔
کسی مرض کی تشخیص یا تعویذ کرنے والے کی پہچان کےلیے مذکو رعمل اگر چہ شرک کے زمرے میں نہ آتا ہو تب بھی کوئی معتمد اور شرعی حجت نہیں ، نیز اس پر عمل کرنے سے عوام کے عقائد خراب ہونے اور دوسروں پر الزام تراشی کے نتیجہ میں باہم جنگ و جدال اور نزاع کا قوی اندیشہ ہے ، اس لیے مذکور طریقہ پر کسی مرض کی تشخیص کرنے اور اس کے مطابق علاج کرانے اور اس پر اعتقاد و یقین رکھنے سے احترا ز لازم ہے۔
ففی الدر المختار: لا (الرتيمة) هي خيط يربط بأصبع أو خاتم لتذكر الشيء و الحاصل أن كل ما فعل تجبرا كره و ما فعل لحاجة لا، عناية. [فرع] في المجتبى: التميمة المكروهة ما كان بغير العربية اھ(ج/6ص/363)۔
و فی رد المحتار: و الحديث الآخر «من علق تميمة فلا أتم الله له» لأنهم يعتقدون أنه تمام الدواء و الشفاء، بل جعلوها شركاء لأنهم أرادوا بها دفع المقادير المكتوبة عليهم و طلبوا دفع الأذى من غير الله تعالى الذي هو دافعه اهـ ط و في المجتبى: اختلف في الاستشفاء بالقرآن بأن يقرأ على المريض أو الملدوغ الفاتحة، أو يكتب في ورق ويعلق عليه أو في طست ويغسل ويسقى.
و عن «النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه كان يعوذ نفسه» قال - رضي الله عنه -: و على الجواز عمل الناس اليوم، و به وردت الآثار و لا بأس بأن يشد الجنب و الحائض التعاويذ على العضد إذا كانت ملفوفة اهـ قال ط: و انظر هل كتابة القرآن في نحو التمائم حروفا مقطعة تجوز أم لا لأنه غير ما وردت به كتابة القرآن و حرره اهـ(ج/6ص/364)۔
و فیه ایضاً: (قَوْلُهُ الْكَاهِنُ قِيلَ كَالسَّاحِرِ) فِي الْحَدِيثِ " «مَنْ أَتَى كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ» أَخْرَجَهُ أَصْحَابُ السُّنَنِ الْأَرْبَعَةِ، وَ صَحَّحَهُ الْحَاكِمُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
وَ الْكَاهِنُ كَمَا فِي مُخْتَصَرِ النِّهَايَةِ لِلسُّيُوطِيِّ: مَنْ يَتَعَاطَى الْخَبَرَ عَنْ الْكَائِنَاتِ فِي الْمُسْتَقْبَلِ وَ يَدَّعِي مَعْرِفَةَ الْأَسْرَارِ. وَ الْعَرَّافُ: الْمُنَجِّمُ. وَ قَالَ الْخَطَّابِيُّ: هُوَ الَّذِي يَتَعَاطَى مَعْرِفَةَ مَكَانِ الْمَسْرُوقِ وَ الضَّالَّةِ وَ نَحْوِهِمَا. اهـ. وَ الْحَاصِلُ أَنَّ الْكَاهِنَ مَنْ يَدَّعِي مَعْرِفَةَ الْغَيْبِ بِأَسْبَابٍ وَ هِيَ مُخْتَلِفَةٌ فَلِذَا انْقَسَمَ إلَى أَنْوَاعٍ مُتَعَدِّدَةٍ كَالْعَرَّافِ. وَ الرَّمَّالِ وَ الْمُنَجِّمِ: وَ هُوَ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْ الْمُسْتَقْبَلِ بِطُلُوعِ النَّجْمِ وَ غُرُوبِهِ، وَ اَلَّذِي يَضْرِبُ بِالْحَصَى، وَ اَلَّذِي يَدَّعِي أَنَّ لَهُ صَاحِبًا مِنْ الْجِنِّ يُخْبِرُهُ عَمَّا سَيَكُونُ، وَ الْكُلُّ مَذْمُومٌ شَرْعًا، مَحْكُومٌ عَلَيْهِمْ وَ عَلَى مُصَدِّقِهِمْ بِالْكُفْرِ. وَفِي الْبَزَّازِيَّةِ: يَكْفُرُ بِادِّعَاءِ عِلْمِ الْغَيْبِ وَ بِإِتْيَانِ الْكَاهِنِ وَ تَصْدِيقِهِ. وَ فِي التَّتَارْخَانِيَّة: يَكْفُرُ بِقَوْلِهِ أَنَا أَعْلَمُ الْمَسْرُوقَاتِ أَوْ أَنَا أُخْبِرُ عَنْ إخْبَارِ الْجِنِّ إيَّايَ اهـ. قُلْتُ: فَعَلَى هَذَا أَرْبَابُ التَّقَاوِيمِ مِنْ أَنْوَاعِ الْكَاهِنِ لِادِّعَائِهِمْ الْعِلْمَ بِالْحَوَادِثِ الْكَائِنَةِ. وَ أَمَّا مَا وَقَعَ لِبَعْضِ الْخَوَاصِّ كَالْأَنْبِيَاءِ وَ الْأَوْلِيَاءِ بِالْوَحْيِ أَوْ الْإِلْهَامِ فَهُوَ بِإِعْلَامٍ مِنْ اللَّهِ تَعَالَى فَلَيْسَ مِمَّا نَحْنُ فِيهِ اهـ مُلَخَّصًا مِنْ حَاشِيَةِ نُوحٍ مِنْ كِتَابِ الصَّوْمِ اھ(4/242)۔
ماہ محرم یا بارہ ربیع الأوّل کو چندہ اکٹھا کر کے اس کی شیرینی وغیرہ تقسیم کرنا
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0قوالی سسننے کا حکم -دورانِ سفر گاڑی میں گانے چل رہے ہوں تو کیا کیا جاۓ
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0اذان میں "علی وصی اللہ ، خلیفۃ بلا فصل"کا اضافہ- اہلِ تشیع کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانے کا حکم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0مروّجہ سالانہ باجماعت قضاءِ عمری-عیدین یا فرائض کے بعد مصافحہ و معانقہ-جمعرات اور 23 رمضان کو مخصوص سورتوں کا ختم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0