کیا فرماتے علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کئی سالوں سے ۱۲؍ربیع الاوّل کو اپنے گھر میں حلوہ پکاتا ہے اور اس کو غریبوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کرتا ہے اور گھر میں استعمال کرتا ہے تو وہ اس کام کو جاری رکھے یا چھوڑ دے؟
رشتہ داروں اور غریبوں کا اکرام کرنا بلاشبہ ایک جائز اور مستحب عمل ہے اور اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، لیکن کسی شخص کا اپنے اس عمل کو کسی خاص دن اور وقت کے ساتھ مقید کرکے اور اسی کو زیادہ باعثِ اجر و ثواب سمجھنا بلاشبہ ایک ایسا عمل ہے جس سے ایک جائز کام بھی بدعت کے زمرے میں داخل ہوجاتا ہے ورنہ کم از کم تشبہ باھل البدع کی بناء پر اس سے احتراز لازم ہے۔
وفی الدر: اذا تردد الحکم بین سنۃ وبدعۃ کان ترک السنۃ راجحا علی فعل البدعۃ۔ (ج۱، ص۶۴۲)-
وفیہ ایضًا: کل مباح یؤدی الی الوجوب فمکروہ۔ (ج۱، ص۳۷۱)-
وفی صحیح مسلم: عن ابی ہریرۃؓ عن النبی ﷺ قال لا تخصوا لیلۃ الجمعۃ بقیام من بین اللیالی ولا تخصوا یوم الجمعۃ بصیام من بین الایام إلا ان یکون فی صوم یصومہ أحدکم۔ (ج۱، ص۳۶۱)-
وقال النووی فی شرحہ سبب النہی لئلا یعتقد وجوبہ۔ اھـ واﷲ اعلم
ماہ محرم یا بارہ ربیع الأوّل کو چندہ اکٹھا کر کے اس کی شیرینی وغیرہ تقسیم کرنا
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0قوالی سسننے کا حکم -دورانِ سفر گاڑی میں گانے چل رہے ہوں تو کیا کیا جاۓ
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0اذان میں "علی وصی اللہ ، خلیفۃ بلا فصل"کا اضافہ- اہلِ تشیع کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانے کا حکم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0مروّجہ سالانہ باجماعت قضاءِ عمری-عیدین یا فرائض کے بعد مصافحہ و معانقہ-جمعرات اور 23 رمضان کو مخصوص سورتوں کا ختم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0