میرا نام ماجد ہے، میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتا ہوں، میرا سوال یہ ہے کہ ہماری کمپنی میں بارہ(۱۲) ربیع الأوّل اور محرم کے لیے لوگ پیسے جمع کرتے ہیں اور اس سے مٹھائی منگوا کر فاتحہ اور نیاز کرتے ہیں تو کیا یہ صحیح ہے؟ اور اس کے کیا حقائق ہیں؟ کیا میں وہ کھا سکتا ہوں اور پیسے دے سکتا ہوں، جب کہ اس میں زبردستی نہیں ہوتی، جو چاہے دے اور جو نہ چاہے نہ دے،براہ ِکرم تفصیل سے بتائیں۔
واضح ہو کہ محرم الحرام کے ایام یا بارہ ربیع الأوّل کو چندہ اکھٹا کر کے اس کی شیرینی وغیرہ تقسیم کرنا محض ایک رسم ہے، جس کی بنیاد شیعوں اور بدعت کا ذہن رکھنے والے لوگوں نے رکھی ہے، اس میں حصہ ملانا ایک رسم کی اشاعت ہے، جس میں شرکت گناہ پر مبنی ہے، اس لیے اس رسم میں شرکت سے اجتناب چاہیے، البتہ رسم سے بچتے ہوئے اگر کوئی شخص انفرادی طور پر کوئی نیک عمل کر کے اس کا ایصالِ ثواب کردے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے اوراس میں بھی اخفاء بہتر ہے۔
و فی مشكاة المصابيح: وعن ابن عمر قال: قال رسول الله - صلى الله عليه و سلم : «من تشبه بقوم فهو منهم». رواه أحمد وأبو داود اھ(2/ 1246) واللہ أعلم
ماہ محرم یا بارہ ربیع الأوّل کو چندہ اکٹھا کر کے اس کی شیرینی وغیرہ تقسیم کرنا
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0قوالی سسننے کا حکم -دورانِ سفر گاڑی میں گانے چل رہے ہوں تو کیا کیا جاۓ
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0اذان میں "علی وصی اللہ ، خلیفۃ بلا فصل"کا اضافہ- اہلِ تشیع کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانے کا حکم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0مروّجہ سالانہ باجماعت قضاءِ عمری-عیدین یا فرائض کے بعد مصافحہ و معانقہ-جمعرات اور 23 رمضان کو مخصوص سورتوں کا ختم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0