کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ قرآن خوانی کی رسم جو ہم مسلمانوں میں رائج ہے اور جسے ہم باعثِ برکت بھی سمجھتے ہیں، اس کے متعلق ہماری رہنمائی قرآن و حدیث کی روشنی میں فرمائیے اور بتائیے کہ ایسا کرنا جائز ہے کہ نہیں؟
امید ہے کہ آپ ہمارے مسئلے کو اپنے علم کی روشنی میں سمجھ گئے ہوں گے کیونکہ ہم کو تو مسئلہ پوچھنا بھی صحیح سے نہیں آتا، براہِ مہربانی قرآن و حدیث کے دلائل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ شکریہ
واضح ہو کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا عبادات میں سے اہم ترین اور زیادہ باعثِ اجر و ثواب عبادت ہے لیکن شریعت نے اس کی کوئی خاص صورت متعین نہیں فرمائی بلکہ آداب و شرائط ملحوظ رکھتے ہوئے قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا باعثِ ثواب ہی ثواب ہے، البتہ موجودہ دور میں اجتماعی قرآن خوانی کی جو صورت عام معاشرہ میں لوگوں نے متعین کر رکھی ہے، ایصالِ ثواب اور ختمِ قرآن کریم کا یہ طریقہ قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے ثابت نہیں اس لئے یہ بدعت ہے اور مزید یہ کہ اس میں بدعت ہونے کے علاوہ کئی ایک خرابیاں بھی ہیں اور وہ یہ کہ دوست و رشتہ دار تو عموماً محض شکایت سے بچنے کیلئے آتے ہیں، ایصالِ ثواب مقصود نہیں ہوتا، حتیٰ کہ اگر کوئی دوست یا عزیز اپنے گھر بیٹھ کر پورا قرآن ختم کرکے بخش دے تب بھی اہلِ میت راضی نہیں ہوتے اور اگر راضی ہوجائیں تب بھی نہ آنے کی شکایت باقی رہتی ہے اور اگر اہلِ میت کے یہاں آکر تھوڑی دیر بیٹھ کر حیلہ بہانہ بناکر چلا جائے تو شکایت سے بچ جاتا ہے اور جو عمل ایسے مقاصد کیلئے ہو اس پر کچھ ثواب نہیں ملتا اور جب پڑھنے والا ہی ثواب سے محروم رہا تو مردے کو کیا بخشے گا؟
اب رہا فقراء اور مساکین کا آنا تو یہ حضرات اکثر اس لئے آتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ ملے گا، اگر انہیں پہلے سے ہی معلوم ہوجائے کہ ملے گا کچھ بھی نہیں صرف پڑھنا ہی پڑھنا ہے تو ہرگز ایک بندہ بھی نہیں آئے گا، اس سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کا آنا بھی محض اس توقع سے ہوتا ہے کہ کچھ مل جائے اور جب ان کا پڑھنا ہی دنیوی غرض کیلئے ہوا تو اس کا ثواب کہاں سے ملے گا اور مردے کو کیا بخشیں گے؟ اسی طریقہ سے ایسے مواقع میں مردوں اور عورتوں کا اختلاط بھی ہوتا ہے جو کہ ناجائز ہے اس لئے ایسی بدعات اور خرافات سے اجتناب ضروری ہے۔
تاہم اگر اپنے طور پر پورے گھر والے قرآن کریم پڑھ کر یا دوسرے رشتہ دار بھی اپنے اپنے مقام سے پڑھ کر میت کو بخش دیں،کسی ایک جگہ جمع ہونے اور وقت کی تعیین کو ضروری نہ سمجھیں تو یہ جائز ہے اور خلوص کے ساتھ اپنے طور پر انفرادی حیثیت سے فقط تین مرتبہ ’’قل ہوا اللہ احد الخ‘‘ پڑھ کر ایصالِ ثواب کرنا مروّجہ قرآن خوانی سے بہرحال بہتر ہے، اس لئے ضروری ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت جیسے عظیم اور مہتم بالشان عمل کو بدعات و خرافات سے پاک کرکے خلوص کے ساتھ کریں اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔
وفی رد المحتار: واتخاذ الدعوۃ لقراء ۃ القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم او لقراء ۃ سورۃ الأنعام أو الإخلاص؛ والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراء ۃ القرآن لأجل الاکل یکرہ۔ وفیہا من کتاب الاستحسان وإن اتخذ طعاما للفقراء کان حسنًا۔ اھـ
وأطال فی ذٰلک فی المعراج وقال: وہذہ الأفعال کلہا للسمعۃ والریاء فیحترز عنہا لأنہم لا یریدون بہا وجہ اﷲ تعالٰی۔ اھـ (ج۲، ص۲۴۰)-
وفیہ ایضًا: فالحاصل أن ماشاع فی زماننا من قراء ۃ الأجزاء بالاجرۃ لا یجوز لأن فیہ الأمر بالقراء ۃ وإعطاء الثواب للأمر، والقراء ۃ لأجل المال، فاذا لم یکن للقاری ثواب لعدم النیۃ الصحیحۃ فأین یصل الثواب الی المستأجر ولولا الأجرۃ ما قرء أحد لأحد فی ھذا الزمان بل جعلوا القرآن العظیم مکسبا ووسیلۃ الی جمع الدنیا۔ اناللّٰہ وانا الیہ راجعون۔ (الی قولہ) لان ذٰلک یشبہ استئجارہ علی قرأۃ القرآن وذٰلک باطل ولم یفعل ذٰلک احد من الخلفاء۔ اھـ
وفیہ ایضًا: ونقل العلامۃ الخلوتیّؒ (إلی قولہ) ولا یصح الاستئجار علی القراء ۃ واھدائہا الی المیت؛ لانہ لم ینقل عن أحد من الائمہ الإذن فی ذٰلک: وقد قال العلماء: إن القاری إذا قراء لاجل المال فلا ثواب لہ فأیّ شیء یہدیہ الی المیت۔ (ج۶، ص۵۶۔ ۵۷)واﷲ اعلم
ماہ محرم یا بارہ ربیع الأوّل کو چندہ اکٹھا کر کے اس کی شیرینی وغیرہ تقسیم کرنا
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0قوالی سسننے کا حکم -دورانِ سفر گاڑی میں گانے چل رہے ہوں تو کیا کیا جاۓ
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0اذان میں "علی وصی اللہ ، خلیفۃ بلا فصل"کا اضافہ- اہلِ تشیع کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانے کا حکم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0مروّجہ سالانہ باجماعت قضاءِ عمری-عیدین یا فرائض کے بعد مصافحہ و معانقہ-جمعرات اور 23 رمضان کو مخصوص سورتوں کا ختم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0