کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) کیا قرآنی آیات پر مشتمل تعویذات جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ قرآنی آیاتِ کریمہ کے تعویذات بھی ناجائز ہیں اور ناجائز قرار دینے والوں میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ شامل ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ ہمارے علماءِ کرام قرآنی آیات والے تعویذ کو جائز سمجھتے ہیں جبکہ حنبلی مسلک والے اس کو ناجائز کہتے ہیں اب اوّل بات یہ پوچھنی ہے کہ جو جائز سمجھتے ہیں وہ کون سی حدیث یا کون سی روایت سے استدلال کرتے ہیں؟ مہربانی کر کے یہ بھی بتادیں کہ وہ حدیث یا روایت مستند ہے یا نہیں؟
دوم یہ کہ اگر جائز نہیں تو ناجائز قرار دینے والے کون سی روایت سے استدلال کرتے ہیں؟ جائز قرار دینے والوں کی روایت مستند ہے یا ناجائز قرار دینے والوں کی مستند ہے؟
(۲) اگر ناجائز ہیں تو کیا یہ وہ شرک ہے جس کو اللہ تعالیٰ کبھی بھی معاف نہیں کرے گا ؟ (میرا مطلب یہ ہے کہ اگر ناجائز ہے تو یہ تعویذ جس نے کی ہو یا جس نے پہنی ہو ، کیا وہ کبھی بھی جنت میں نہیں جائے گا؟)
(۳) ہمارے یہاں ایک مولانا صاحب ہیں جو تعویذ وغیرہ کچھ اس طرح سے کرتے ہیں جو درجِ ذیل ہے ، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا علم ہے کہ نہیں ؟ وہ مولانا صاحب بریلوی بھی نہیں ہیں ان کا تعلق اپنے مسلک یعنی دیوبند سے ہے۔
اوّل یہ کہ وہ مریض کا نام اور اس کی والدہ کا نام پوچھتے ہیں اور پھر کچھ نمبر لکھ کر اپنے حساب سے یہ معلوم کرتے ہیں کہ اس مریض پر کسی نے کوئی تعویذ یا اس پر کوئی جنات کا اثر تو نہیں ہے، اگر میڈیکل کی بیماری ہو تو اسے کہتے ہیں کہ آپ پر جنات کا اثر ہے اور نہ ہی کسی نے تعویذ وغیرہ کی ہے تو کیا ایسا کوئی علم ہے؟
دؤم یہ کہ کیا ایسا کوئی علم ہے جو مریض کا نام اور اس کی والدہ کا نام لکھ کر یہ معلوم کرے کہ اس پر کوئی بیماری ہے یا جنات کا اثر ہے؟
سوم یہ کہ جب وہ کسی کا علاج کرتے ہیں تو وہ اسے ایک تعویذ دیتے ہیں اور ایک صفحے پر صرف ’’ع‘‘ جیسے الفاظ لکھ کر اس مریض کو دے کر کہتے ہیں کہ اسے بتی بناکر جلاؤ ، کیا یہ طریقہ درست ہے یا نہیں؟
چہارم یہ کہ کیا اس کا کیا ہوا تعویذ درست ہے یا نہیں؟
مجھے امید ہے کہ تمام سوالات کے جوابات شرعی اصولوں کے مطابق بھیج دیئے جائیں گے۔
(۱، ۲) واضح ہو کہ نصوصِ شرعیہ میں جن تعویذات سے منع کیا گیا ہے ان سے مراد وہ تعویذات ہیں جو زمانہ جاہلیت میں شرک پر مبنی کلمات سے ، ناجائز مقاصد کیلئے دیئے جاتے تھے حالانکہ رُقیہ بالقرآن کی اجازت ہے ’’کما فی قصۃ اللدیغ الذی رقاہ الصحابۃ و اخذوا علیہ اجرا من الغنم‘‘ پس اگر حنبلی مسلک والے اس سے منع کرتے ہوں تو وہ کسی دوسرے عارض کی بناء پر مثلاً عوام کا عقیدہ خراب ہونے کا اندیشہ ہو کہ وہ تعویذ وغیرہ کو مؤثر بالذات سمجھنے لگیں گے ، جبکہ ایسی صورتِ حال میں تو عند الاحناف بھی اس کی اجازت نہیں ہوگی اور دیگر ائمہ بھی اس کے قائل ہیں ، چنانچہ اس سے بخوبی معلوم ہوگیا کہ قرآنی آیات ، اسماء و صفاتِ الٰہی اور ادعیۂ ماثورہ کے ذریعے تعویذات کرنا جائز اور درست ہے بشرطیکہ اسے مؤثرِ حقیقی نہ سمجھا جائے اور اسکے معنیٰ بھی معلوم ہوں ، نیز جس روایت کی رو سے عبداللہ بن مسعودؓ کی طرف یہ بات منسوب ہے کہ وہ ما سوا ۓمعوذتین کے ، تعویذات کو مکروہ بتلاتے تھے اس کی سند میں کلام ہے جیسا کہ ذیل میں دی گئی عبارت سے واضح ہے۔
(۳) اس کے بعد واضح ہو کہ مولانا صاحب موصوف کا مذکور طرزِ عمل جس میں وہ مریض اور اس کی والدہ کا نام معلوم کرکے مختلف ہندسوں کے جمع و تفریق اور تقسیم سے مریض کی تشخیص کرتے ہیں یہ کوئی یقینی اور صحیح طریقۂ تشخیص نہیں کیونکہ اس طرح کسی مریض کے علاج کے بعد بھی اس کے نام اور حسبِ سابق مختلف ہندسوں کے جمع و تفریق سے اسی پہلے مرض کی ہی تشخیص ممکن ہے اور اس طرح یہ مریض ان کے علاج سے کبھی چھٹکارا نہیں پاسکے گا، اسی طرح ان تمام افراد کیلئے بھی یہی مرض تشخیص ہوگا جن کا اپنا اور ان کی والدہ کا نام اس پہلے مریض کے نام پر ہو یہ محض عوام الناس کو دھوکہ دینے اور ان کے عقائدو نظریات خراب کرنے کے مترادف ہے ، جس سےاحتراز لازم ہے۔
تاہم اس علم اور اس کے قریب تر علم کو ’’علم عرّاف‘‘ کہا جاتا ہے جو محض بعض علامات و امور سے اندازہ لگانے پر مبنی ہوتا ہے، ایسے شخص کی باتوں پر عمل کرنے سے ایسے ہی منع کیا گیا ہے جیسے کاہن اور " کہان" کی باتوں پر عمل کرنے سے، لہٰذا مولوی صاحب موصوف کو چاہئے کہ آیاتِ قرآنیہ کے ذریعہ لوگوں کا علاج کریں اور مذکور طرزِ عمل ترک کردیں۔
جبکہ جنات کے بھگانے سے متعلق اگر وہ واقعۃً علم رکھتے ہوں اور اسی کے موافق فلیتہ وغیرہ دیتے ہوں تو انہیں جلانے اور اس کے موافق عمل کرنے میں شرعاً بھی کوئی قباحت نہیں۔
فی الصحیح للبخاری : عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا ان النبی ﷺ کان ینفث علی نفسہ فی المرض الذی مات فیہ بالمعوذات فلما ثقل کنت انفث علیہ بہنّ و امسح بیدہ نفسہ لبرکتہا فسالت الزہری کیف ینفث قال کان ینفث علی یدیہ ثم یمسح بہما وجہہ۔ اھـ (ج۲، ص۸۵۴)۔
و فیہ ایضًا : عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا قالت امرنی النبی ﷺ او أمر ان یسترقٰی من العین۔ اھـ (ج۲، ص۸۵۴)۔
و فی فتح الباری : عن ابن مسعود ان النبی ﷺ کان یکرہ عشر خصال فذکر فیہا الرقٰی الا بالمعوذات ، و عبد الرحمن بن حرملہ قال البخاری لا یصح حدیثہ و قال الطبری لا یحتج بہذا الخبر لجہالۃ راویہ و علی تقدیر صحتہ فہو منسوخ بالاذن فی الرقیۃ بفاتحہ الکتاب۔ الخ (ج۱۰، ص۲۳۹۔۲۴۰)۔
و فی شرح المسلم للنووی : اما الرقٰی باٰیات القرآن و بالاذکار المعروفۃ فلا نہی فیہ بل ہو سنۃ (الٰی قولہ) و قد نقلوا الاجماع علی جواز الرقٰی بالاٰیات و اذکار اﷲ قال المازری جمیع الرقٰی جائزۃ اذا کانت بکتاب اﷲ تعالٰی او بذکرہ و منہی عنہا اذا کانت باللغۃ العجمیۃ أو بما لا یدری معناہ لجواز ان یکون فیہ کفرٌ۔ اھـ (ج۲، ص۲۱۹)۔
و فی فتح الباری : و قد أجمع العلماء علی جواز الرقٰی عند اجتماع ثلٰثۃ شروط ان یکون بکلام اﷲ تعالٰی او باسمائہ وصفاتہ وباللسان العربی او بما یعرف معناہ من غیرہ و أن یعتقد أن الرقیۃ لا تؤثر بذاتہا بل بذات اﷲ تعالیٰ۔ (ج۱۰، ص۲۴۰)۔
و فی المرقاۃ : و لا یکرہ منہا ما کان علی خلاف ذالک کالتعوذ بالقرآن و اسماء اﷲ تعالٰی۔ الخ (ج۸، ص۳۰۲)۔
و فی رد المحتار : اقول الذی رأیتہ فی المجتبی التمیمۃ المکروہۃ ما کان بغیر القرآن و قیل ہی الخرزۃ التی تعلقہا الجاہلیۃ (الٰی قولہ) و لا بأس بالمعاذات اذا کتب فیہا القرآن او اسماء اﷲ تعالٰی (إلٰی أن قال) و إنما تکرہ العوذۃ اذا کانت بغیر لسان العرب و لا یدری معناہ و لعلہ یدخلہ سحر وکفر أو غیر ذالک و أما ما کان من القراٰن او شییء من الدعوات فلا بأس بہ۔ (ج۶، ص۳۶۳)۔
و فی المشکوٰۃ : و عن حفصۃ قالت قال رسول اﷲ ﷺ من اتٰی عرّافًا فسالہ عن شیء لم یقبل لہ صلوٰۃ اربعین لیلۃ۔(رواہ مسلم: ج۲، ص۳۹۳)۔
ماہ محرم یا بارہ ربیع الأوّل کو چندہ اکٹھا کر کے اس کی شیرینی وغیرہ تقسیم کرنا
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0قوالی سسننے کا حکم -دورانِ سفر گاڑی میں گانے چل رہے ہوں تو کیا کیا جاۓ
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0اذان میں "علی وصی اللہ ، خلیفۃ بلا فصل"کا اضافہ- اہلِ تشیع کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانے کا حکم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0مروّجہ سالانہ باجماعت قضاءِ عمری-عیدین یا فرائض کے بعد مصافحہ و معانقہ-جمعرات اور 23 رمضان کو مخصوص سورتوں کا ختم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0