آسیب و ہمزا د کی حقیقت کیا ہے ؟ آسیب کا لوگوں پر آنے کی کیا حقیقت ہے؟
واضح ہو کہ "آسیب " لغت میں (1) صدمہ (2) نقصان (3) خوف (4) دُکھ، آزار ، تکلیف ، الم ، مصیبت (5) جن، پری، دیو، وغیر و معانی پر بولا جاتا ہے (فیروز اللغات )، اور شریعت میں " آسیب" کے متعلق فقط یہ ثابت ہے کہ بعض حالات میں کوئی شریر جن انسان کو تکلیف دیتا ہے، اسکے علاوہ " آسیب " کا کوئی ثبوت نہیں، چنانچہ مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ (کفایت المفتی / ج: 9 / ص: 81) میں فرماتے ہیں:شرعی طریقے سے آسیب کے متعلق اسی قدر ثابت ہے کہ بعض حالات میں کوئی شریر جن انسان کو تکلیف دیتا ہے بس، اس سے زیادہ آسیب کا کوئی ثبوت نہیں۔
البتہ ہمزاد کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
ما منكم من أحد إلا وقد وكل به قرينه من الجن وقرينه من الملائكة قالوا: وإياك؟ يا رسول الله قال: «وإياي، إلا أن الله أعانني عليه فأسلم، فلا يأمرني إلا بخير» (صحيح مسلم (4 / 2167)
ترجمہ :تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں جس کے ساتھ ایک مؤکل شیطان میں سے اور ایک موکل فرشتوں میں سے مقرر نہ کیا گیا ہو ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا ،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کے ساتھ بھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میرے ساتھ بھی لیکن اللہ جل جلالہ نے مجھ کو اس سے مقابلہ کرنے میں امداد دے رکھی ہے (اس لئے میں اس کے مکر و فریب اور اس کی گمراہی سے محفوظ رہتا ہوں، بلکہ یہاں تک کہ وہ بھی ) مجھے بھلائی کا مشورہ دیتا ہے۔
اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے ساتھ دو موکل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک تو فرشتہ ہے جو نیکی وبھلائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور انسان کو اچھی باتیں ونیک کام کی طرف راغب کرتا ہے اور اس کے قلب میں خیر وبھلائی کی چیزیں ڈالتا رہتا ہے اس کو "ملھم " کہتے ہیں، دوسرا ایک جن (شیطان) ہوتا ہے جس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کو برائی کے راستہ پر ڈالتار ہتاہے، چنانچہ وہ گناہ و معصیت کی باتیں بتاتا ہے اور دل میں برے خیالات و غلط وسوسے پیدا کر تا رہتا ہے، اس کا نام"وسواس" ہے، اس کو عوام الناس " ہمزاد کہتے ہیں، اس کے علاوہ ہمزادکی اور کوئی حقیقت یا ثبوت نہیں ہے،چنانچہ حکیم الامت مولا نا شرف علی تھانوی رحمہ الله امداد الفتاوی / جدید / ج: 10 / ص : 27) میں فرماتے ہیں:
ہمزاد سے مراد یہ نہیں کہ اس کے ساتھ اس کی ماں کے پیٹ سے پیدا ہو، بلکہ انسان کے مقابل میں ایک شیطان بھی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے جو صرف تولد میں اس کا مشارک ہے، اس بناء پر اس کو ہمزاد کہہ دیا، نہ محل میں مشارک ہے نہ زمان تولد میں۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمزاد سے مراد وہ جن (شیطان) ہے کہ جسے اللہ جل جلالہ نے بندوں پر مسلط کیا ہے ، اور وہ گناہ و معصیت کی باتیں بتاتا ہے اور دل میں برے خیالات غلط وسوسے پیدا کرتا ہے، چنانچہ مذکور تفصیل سے آسیب اور ہمزاد کی حقیقت اور لوگوں پر اثر انداز ہونے کی تفصیل واضح ہو جاتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
وفى أكام المرجان في أحكام الجان :ان للنفس تأثيرا عظيما في البدن أعظم من تأثير الأسباب الطبية وكذلك للجن تأثير في ذلك قال صلى الله عليه وسلم في الحديث إن الشيطان يجري من ابن آدم مجرى الدم اھ (1 / 22)
ماہ محرم یا بارہ ربیع الأوّل کو چندہ اکٹھا کر کے اس کی شیرینی وغیرہ تقسیم کرنا
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0قوالی سسننے کا حکم -دورانِ سفر گاڑی میں گانے چل رہے ہوں تو کیا کیا جاۓ
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0اذان میں "علی وصی اللہ ، خلیفۃ بلا فصل"کا اضافہ- اہلِ تشیع کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانے کا حکم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0مروّجہ سالانہ باجماعت قضاءِ عمری-عیدین یا فرائض کے بعد مصافحہ و معانقہ-جمعرات اور 23 رمضان کو مخصوص سورتوں کا ختم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0