کیا فرماتے ہیں علمائے کرام درج ذیل مسائل کے
بارے میں کہ:
(۱) دعائے قنوت کیلئے رفع یدین کرنا کہاں سے ثابت ہے؟ کیا دعائے قنوت کے وقت رفع یدین سے دلیل پکڑنا کہ، رکوع سے قبل و بعد بھی رفع یدین کیا جاسکتا ہے، صحیح ہے؟
(۲) نماز میں سرڈھانپنا شرائط صلوٰۃ میں سے ہے یا ارکان میں سے ہے؟ ایک آدمی باوجود اس کے کہ، سر ڈھانپنے پر قادر ہے، نہیں ڈھانپتا ،تو اس کا کیا حکم ہے؟ جبکہ یہی اس کی ہمیشہ عادت رہی.
(۳) جمعہ کی دوسری آذان دینا کیسا ہے؟ کہاں سے ثابت ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں ثابت کریں، بندہ آپ کا ممنون و مشکور ہوگا۔
وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت کیلئے رفع الیدین احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے، اور اس سے رکوع سے قبل اور بعد رفع الیدین کرنے پر استدلال کرنا درست نہیں۔
(۲) نماز میں سر ڈھانپنا آدابِ الصلوٰۃ میں سے ہے، لہٰذا بلا عذر محض سستی کی بناء پر نماز میں سر نہ ڈھانپنا اور اس کو عادت بنالینا، مکروہ ہے۔
(۳) نمازِ جمعہ کیلئے مذکورہ اذان تو نبی کریم ﷺ کے دور سے ثابت اور ضروری ہے، البتہ پہلی اذان کا تعلق صرف حضرت عثمان ذوالنورینؓ کے دورِ خلافت میں اجماعِ صحابہ سے ہے کہ، آپ نے دور دراز رہنے والے مسلمانوں کی شرکتِ جمعہ کی خاطر اس اذان کو شروع کروایا تھا، اور صحابہ میں سے کسی نے بھی اس پر نکیر نہ کی۔
ففی اعلاء السنن: عن الاسود عن عبداﷲ (ہو ابن مسعود) انه کان یقرء فی آخر رکعة من الوتر قل ہو اﷲ احد ثم یرفع یدیه فیقنت قبل الرکعة (رواہ الامام البخاری فی جزء رفع الیدین: ص۲۸) وقال صحیح۔
عن ابی عثمان: کان عمرؓ یرفع یدیه فی القنوت، اخرجه البخاری ایضا فی الجزء المذکور وصححه
وعنه ایضًا باسناد صحیح قال ’’کنا وعمر یوم الناس ثم یقنت بنا عند الرکوع یرفع یدیه‘‘(اعلاء السنن: ج۶، ص۷۰)
کذا فی آثار السنن والحلبی الکبیر (ص۴۱۷، ص۲۱۰):
وفی آثار السنن: عن ابراہیم النخعی قال ترفع الدیدی فی سبع مواطن فی افتتاح الصلوٰۃ وفی التکبر للقنوت فی الوتر رواہ الطحاوی: ص۲۳۴، واسنادہ صحیح۔ (آثار السنن: ص۲۱۰)
وفی الحلبی: یکرہ (ان یصلی حاسرا) إلی حال کونه کاشفا (رأسه تکاسلًا) ای لاجل الکسل وبسببه بان استثقل تغطیته ولم یرہا أمرا مہمًا فی الصلوٰۃ فترکہا لذٰلک وہذا امعنی قولہم تھاونا بالصلوٰۃ ولیس معناہ الإستخفاف بہا والاحتقار لان ذٰلک کفر، العیاذ بالله(حلبی: ص۳۴۸)
عن السائب بن یزید: قال کان النداء یوم الجمعة اوله اذا جلس الامام علی المنبر علی عہد النبی ﷺ وابی بکر وعمر فلما کان عثمان وکثر الناس زاد النداء الثالث علی الزوراء (بخاری: ج۱، ص۱۲۴)
قال عینیؒ: والأذان الثالث فی الوجوہ ہو الاقامة اھـ واﷲ اعلم!
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0