السلام علیکم! قیامت کےنزدیک حضرت مہدی کے ظہور کے بارےمیں جاننا ہے کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت مہدی کے بارے میں جو روایات ہیں ان کا ذکر موطا امام مالکؒ میں نہیں ہے، امام مالکؒ نے اپنی زندگی مدینہ میں گزاری، اس کا مطلب یہ ہےکہ مدینہ کے لوگ حضرت مہدی کے بارے میں نہیں جانتے تھے، حضرت مہدی کے بارے میں جو روایات ہیں وہ کوفی ہیں اور کوفیوں نے اپنی خود ساختہ روایات گھڑی ہیں اسلام کے نام پر، اس لیے امام مالکؒ حضرت مہدی کے بارے میں کسی حدیث کا ذکر نہیں کرتے ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم نے حضرت مہدی پر یقین نہیں کیا، کیونکہ ان کو کوئی ایسی حدیث نہیں ملی۔ اور اس نے یہ بھی کہا کہ مستدرک لکھنے والا شیعہ تھا۔
ظہورِ مہدی کے متعلق روایات اتنی مقدار میں موجود ہیں جو حدِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں اور اس بناء پر یہ نظریہ تمام اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک مسلّمات میں سے ہے اور صحاحِ ستہ میں سے چار کتب: مسلم ، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں اس سے متعلقہ احادیثِ مبارکہ بکثرت موجود ہیں اور علماءِ اسلام نے اس موضوع پر مستقل کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں، جبکہ امام مالک نے ’’مؤطا‘‘ اور امام بخاری نے اپنی کتب میں تمام احادیث کا احاطہ نہیں کیا ۔اور نہ ہی ان کا اس سلسلہ میں کوئی دعویٰ ہے اور عقلاً کسی چیز کا ذکر نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا، کہ اس کا وجود ہی تسلیم نہ ہو یا ان کو اس سلسلہ میں کوئی روایات ہی نہ پہنچی ہو، خصوصاً ’’مؤطا امام مالک‘‘ تو ان روایات پر مشتمل ہے ،جو فقہی احکام سے متعلق ہیں نہ کہ آپﷺ کی پیشنگوئی سےمتعلق، اس لیے سائل کا مذکور طرزِعمل جہالت اور پروپیگنڈہ پر مبنی ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی صحيح مسلم: عن أبي سعيد، وجابر بن عبد الله، قالا: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : «يكون في آخر الزمان خليفة يقسم المال ولا يعده»اھ (4/ 2235)-
وفیه أیضاً: عن أبي سعيد، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «من خلفائكم خليفة يحثو المال حثيا، لا يعده عددا» وفي رواية ابن حجر: «يحثي المال»(4/ 2235)-
و فی سنن أبي داود: عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : «المهدي مني، أجلى الجبهة، أقنى الأنف، يملأ الأرض قسطا وعدلا، كما ملئت جورا وظلما، يملك سبع سنين»(4/ 107)-
وفیه أیضاً: عن أم سلمة، قالت: سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: «المهدي من عترتي، من ولد فاطمة» قال عبد الله بن جعفر: وسمعت أبا المليح، «يثني على علي بن نفيل، ويذكر منه صلاحا»(4/ 107)-
وفیه أیضاً: وقال: في حديث سفيان: «لا تذهب، أو لا تنقضي، الدنيا حتى يملك العرب رجل من أهل بيتي، يواطئ اسمه اسمي». قال أبو داود: «لفظ عمر وأبي بكر بمعنى سفيان»(4/ 107)-
وفی سنن الترمذي: عن عبد الله قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من أهل بيتي يواطئ اسمه اسمي. وفي الباب عن علي، وأبي سعيد، وأم سلمة، وأبي هريرة. وهذا حديث حسن صحيح. (4/ 75)-
وفیه أیضاً: عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: يلي رجل من أهل بيتي يواطئ اسمه اسمي قال عاصم: وأخبرنا أبو صالح، عن أبي هريرة قال: لو لم يبق من الدنيا إلا يوم لطول الله ذلك اليوم حتى يلي. هذا حديث حسن صحيح. (4/ 75)-
وفی سنن ابن ماجه: عن أبي سعيد الخدري، أن النبي - صلى الله عليه وسلم -، قال: " يكون في أمتي المهدي إن قصر فسبع، وإلا فتسع، فتنعم فيه أمتي نعمة، لم ينعموا مثلها قط، تؤتى أكلها ولا تدخر منهم شيئا، والمال يومئذ كدوس، فيقوم الرجل، فيقول: يا مهدي أعطني، فيقول خذ "(2/ 1366)-
وفیه أیضاً: عن سعيد بن المسيب، قال: كنا عند أم سلمة فتذاكرنا المهدي، فقالت سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ، يقول: «المهدي من ولد فاطمة»(2/ 1368)-
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0