میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ میری اجازت کے بغیر میکپ نہ کرے ورنہ وہ مجھ پر حرام ہے،اس کے بعد میں نے خدا سے دعا کی کہ اگر وہ کبھی کبھی کسی خاص حالت میں ایسا کرتی ہے تو اس کی اجازت ہے،لیکن میں نے اس سے یہ نہیں کہا۔ اب اس نے مجھے بتایا کہ اس نے مجھ سے پوچھے بغیر میک اپ کیا۔ براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ وہ میرے لیے حلال ہے یا حرام؟
واضح ہو کہ طلاق کے باب میں لفظ ''حرام' صریح بائن ہے،اور اس سے بلانیت ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے الفاظ "کہ وہ میری اجازت کے بغیر میکپ نہ کرے ورنہ وہ مجھ پر حرام ہے" سے طلاق معلق ہوچکی تھی، اس کے بعد اگرسائل نے بیوی کو مطلقا میکپ کرنے کی صراحتا اجازت نہ دی ہو،تو محض دعاکرنے سے یہ تعلیق ختم نہیں ہوئی، بلکہ بدستوربرقراررہی،اس لیے جب سائل کی بیوی نے سائل کی اجازت کے بغیر میکپ کرلی تو اس سے پر ایک طلاق بائن واقع ہوکہ دونوں کا نکاح ختم ہوچکاہے،جس کے بعد تجدیدنکاح کیے بغیر دونوں کا ساتھ رہناجائز نہیں۔ تاہم باہمی رضامندی سے نئے حق مہر کے تقررکے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدیدنکاح کرکے ایک ساتھ زندگی بسرکرسکتے ہیں، البتہ اس ایک طلاق بائن کے بعد سائل کے پاس آئندہ کے لیے فقط دوطلاقوں کا اختیارہوگا۔
کما فی التاتارخانیة: أنت علي حرام، والفتوی أنه یقع به البائن، وإن لم ینوِ لغلبة الاستعمال اھ(۴/ ۴۴۸)
وفی البحر الرائق: لو قال لها: أنت علي حرام، والحرام عندہ طلاق وقع وإن لم ینو اھ (۳/۵۲۳، کوئٹہ۳/۳۰۰)
وفی الرد المحتار: أفتی المتأخرون في أنت علی حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلانیةاھ( باب الصریح ۴؍۴۶۴ زکریا)
وفی التاتارخانیة: رجل قال لامرأته: ’’أنت حرام عليَّ‘‘ والحرام عندہ طلاق لکن لم ینو طلاقا وقع الطلاقا اھ (۴؍۴۴۹ رقم: ۶۶۳۹ زکریا)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0