میں نے اپنی بیگم کو الفاظ بولے ’’ اگر تم اپنی ماں کے گھر گئی اور وہاں پہ تمہارا بہنوئی مدثر موجود ہو تو تم میری طرف سے فارغ ہو‘‘
واضح رہے کہ طلاق کو اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کر دیا جائے تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں معلق طلاق واقع ہو جائے گی ،لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " اگر تم اپنی ماں کے گھر گئی اور وہاں پہ تمہارا بہنوئی مدثر موجود ہو تو تم میری طرف سے فارغ ہو" کہہ دیے تو اس سے طلاقِ بائن معلق ہوچکی ہے ، چنانچہ اس کے بعد اگر سائل کی بیوی اپنی ماں کے گھر گئی اور وہاں اسکا بہنوئی مدثر موجود ہوا تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک بائن طلاق واقع ہو کر نکاح ختم ہو جائیگا، لہذا اس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا اور تجدیدِ نکاح سے قبل دونوں کا ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا شرعا ًجائز نہ ہوگا، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ، تاہم اگر باہمی رضامندی سے ساتھ رہنا چاہیں تو دورانِ عدت یا عدت کے بعدبھی باقاعدہ شرعی گواہاں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ ایجاب و قبول کر لینے کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں، البتہ اس صورت میں سائل کو آئندہ فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کمافی الدرالمختار:ولوقال ان دخلت الدار فانت طالق وقع (3/374)۔
وفی الھدایة: " وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق "(1/244)۔
وفی الدرالمختار: الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب،فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح اھ (3/296)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0