ایک شخص اپنی بیوی سے یوں کہے کہ اگر تو (بیوی) میری (خاوند) کے اجازت کے بغیر گھر سے نکلی تو تمہیں طلاق ہے ؟ کیا اس کے بعد ہر دفعہ شوہر سے اجازت طلب کرنا ہوگا یا اگر اسکے بعد شوہر کہے کہ تجھے میں اپنے اس قول سے آزاد کرتا ہو یا تجھے ہر بار مجھ سے پوچھنےکی ضرورت نہیں بلکہ میری طرف سے تجھے ہر وقت اجازت ہے گھر سے نکلنے کی , خواہ تو مجھ سے پوچھے یا نہیں۔
واضح رہے کہ طلاق اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کی جائے تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں شرعاً طلاق واقع ہو جائے گی، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے مذکور الفاظِ طلاق ’’اگر تو میری اجازت کے بغیر گھر سے نکلی تو تمہیں طلاق ہے ‘‘کہے ہوں اورلفظ طلاق صرف ایک مرتبہ کہا ہو تو سائل کی بیوی جب بھی اجازت کے بغیر نکلے گی تو سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائیگی جس کے بعد عدت کے اندر سائل اس سے رجوع کر سکتا ہے ، البتہ اس کے بعد سائل کو صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، لیکن اگر اب تک وہ بغیر اجازت کے نہ نکلی ہو تو وقوعِ طلاق سے خلاصی کی صورت یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ اجازت دیدے کہ آپ جب بھی باہر جانا اور نکلنا چاہو میری طرف سے اجازت ہے تو اس طرح اجازت دینے کے بعد اگر وہ نکلے گی تو طلاق واقع نہ ہو گی۔
كما في الفتاوى الهندية: [الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما]إذا قال لامرأته: أنت طالق إن خرجت من هذه الدار إلا بإذني أو قال: إلا برضائي أو قال: إلا بعلمي أو قال لها: أنت طالق إن خرجت من هذه الدار بغير إذني فهما سواء لأن كلمة إلا وغير للاستثناء فالجواب فيهما أن بالإذن مرة لا تنتهي اليمين حتى لو أذن لها بالخروج مرة وخرجت ثم خرجت بعد ذلك بغير إذنه طلقت وهو نظير ما لو قال لها: إن خرجت من هذه الدار إلا بملحفة فأنت طالق فخرجت بغير ملحفة طلقت كذا في المحيط. لو أذن لها مرة فقبل أن تخرج نهاها عن الخروج ثم خرجت بعد ذلك يحنث كذا في البدائع إذا نوى في إلا بإذني الإذن مرة لا يصدق قضاء على ما عليه الفتوى لأنه خلاف الظاهر كذا في الوجيز للكردري والحيلة في عدم الحنث أن يقول: أذنت لك بالخروج في كل مرة أو يقول: أذنت لك كلما خرجت فحينئذ لا يحنث وكذا إذا قال: كلما شئت الخروج فقد أذنت لك أو أذنت لك بالخروج أبدا أو أذنت لك الدهر كله فإن نهاها بعد ذلك نهيا عاما فعند محمد - رحمه الله تعالى - يصح نهيه كذا في السراج الوهاج وهو اختيار الفضلي وعليه الفتوى اھ (1/439)۔
وفی ردالمحتار: مطلب لا تخرجي إلا بإذني(قوله شرط للبر لكل خروج إذن) للبر متعلق بشرط، ولكل متعلق بنائب الفاعل وهو إذن لا بشرط لئلا يلزم تعدية فعل بحرفين متفقي اللفظ والمعنى أفاده القهستاني، ثم لا يخفى أن اشتراط الإذن راجع لقوله إلا بإذني أما ما بعده فيشترط فيه الأمر أو العلم أو الرضا، وإنما شرط تكراره لأن المستثنى خروج مقرون بالإذن فما وراءه داخل في المنع العام لأن المعنى لا تخرجي خروجا إلا خروجا ملصقا بإذني، قال في النهر: ويشترط في إذنه لها أن تسمعه وإلا لم يكن إذنا وأن تفهمه، فلو أذن لها بالعربية ولا عهد لها بها فخرجت حنثت، وأن لا تقوم قرينة على أنه لم يرد الإذن فلو قال لها اخرجي أما والله لو خرجت ليخزينك الله لا يكون إذنا صرح به محمد، وكذا لو قال لها في غضب اخرجي ينوي التهديد لم يكن إذنا إذ المعنى حينئذ اخرجي حتى تطلقي اهـ ملخصا.اھ (3/759)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0