ایک شخص یہ الفاظ ادا کرتا ہے، کہ اگر میں آئندہ اس جگہ آؤں تو رن طلاق ہے ؟ تو اس شرط کو ختم کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟ جبکہ اس شخص نے شرط نہیں توڑی؟شریعت کا کیا حکم ہے رہنمائی فرمائیں ؟
واضح ہو کہ طلاق جب کسی شرط کیساتھ مشروط اور معلق کردی جائے تو طلاق معلق کرنے والے کو اس شرط ختم کرنے کا حق نہیں ہوتا، چنانچہ شرط پوری ہونے پر طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں جس شخص نے مذکورہ شرط لگائی ہے ’’اگر میں آئندہ اس جگہ آؤں تو رن طلاق ‘‘تو جب بھی وہ شخص وہاں جائے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی ، جبکہ مذکور شخص نے اگر فقط ایک دفعہ مذکور الفاظ کہے ہو تو ایسی صورت میں اس شرط کو ختم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ، البتہ اگر اس نے تین مرتبہ طلاقوں کو مذکور جگہ جانے کے ساتھ معلق کیا ہو اور اب تین طلاقوں سے بچنا چاہتا ہو تو اس کے لئے فقہاء کرام نے ایک صورت ذکر فرمائی ہے ، بوقت ضرورت مکرر سوال کر کے وہ صورت معلوم کی جاسکتی ہے۔
كما في الجوهرة النيرة: (وإذا أضاف الطلاق إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق) هذا بالاتفاق؛ لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت الشرط ولأنه إذا علقه بالشرط صار عند وجود الشرط كالمتكلم بالطلاق في ذلك الوقت فإذا وجد الشرط والمرأة في ملكه وقع الطلاقاھ (ج : 2 ص:39)۔
وفي تبيين الحقائق: قال - رحمه الله - (إنما يصح في الملك كقوله لمنكوحته إن زرت فأنت طالق أو مضافا إليه) أي إلى الملك (كإن نكحتك فأنت طالق فيقع بعده) أي يقع الطلاق بعد وجود الشرط اھ (3/231)۔
وفی الدرالمختار: فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحهااھ(3/355)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0