ایک دوست کی بیوی اجازت لیکر پنجاب گئی تھی ،لیکن وہ 22 دن سے پنجاب میں ہے، اس نے غصے میں آکر فون پر کہا ہے کہ "کل تک نہیں آئی، تو میری طرف سے طلاق ہے " ,تین دفعہ کہا پھر فون کاٹ دیا ، اب اس کا کیا حکم ہوگا ؟
سائل کے دوست کے مذکور جملے سے" کہ کل تک نہیں آئی تو میری طرف سے طلاق ہے" تعلیق طلاق منعقد ہو چکی ہے،لہذا سائل کے دوست کی بیوی اگر آئندہ کل تک نہ آئی تو شرط پائی جانے کی وجہ سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی، جس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد ِنکاح بھی نہیں ہو سکتا، وقوعِ طلاق کی صورت میں عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
كما في الاختيار لتعليل المختار: قال: (فإذا علق الطلاق بشرط وقع عقيبه وانحلت اليمين وانتهت )لأن الفعل إذا وجد ثم الشرط فلا تبقى اليمين اھ (1403) -
وفي الدر المختار: ( وتنحل) اليمين (بعد) وجود الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا اھ (355/3) ۔
وفي البحر الرائق: قوله فإن وجد الشرط في الملك طلقت وانحلت اليمين لأنه قد وجد الشرط والمحل قابل للجزاء فينزل، ولم تبق اليمين لأن بقاءها ببقاء الشرط والجزاء، ولم يبق واحد منهما اھ (23/4)۔
وفي الفتاوى الهندية :وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل ان يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق اھ(1/ 420)-
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0