ایک شخص جس کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہو اور وہ اپنی بیوی سے قسم کے طور پراور گناہ سے بچنے کیلئے یہ کہہ دے کہ "اگرمیں تمہیں دبر میں جماع کروں تو تجھے طلاق" پھر اس نے سال بعد دبر سے جماع کر دیا تو آیا طلاق کا وقوع ہوگا ؟ براہ کرم جواب ای ميل کر دیں۔
شخصِ مذکور کے ان الفاظ " اگر میں تمہیں دبر میں جماع کروں تو تجھے طلاق " کے کہنے سے تیسری طلاق بھی معلق ہو چکی تھی،چنانچہ جب شخصِ مذکور نے اپنی بات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیوی کے ساتھ دبر میں جماع کر لیا تو اس سے شخصِ مذکور کی بیوی پر تیسری معلق طلاق بھی واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔
قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(البقرہ:230)-
وفی بدائع الصنائع: وأما التعليق بشرط فنوعان: تعليق في الملك، وتعليق بالملك. و التعليق في الملك نوعان: حقيقي، وحكمي أما الحقيقي: فنحو أن يقول لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو إن كلمت فلانا(الی قولہ) ثم إذا وجد الشرط، والمرأة في ملكه أو في العدة يقع الطلاق وإلا فلا يقع الطلاق اھ(3/126)-
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0