ایک صاحب نے ایک حدیث بیان کی، جس کا مفہوم ہے کہ’’ میت کو قبر میں دفن کرنے کے بعد اگر ایک مٹھی مٹی ہاتھ میں لے کر اس پر گیارہ مرتبہ سورۃ القدر پڑھی جائے اور ہر بار بسم اللہ بھی ساتھ پڑھی جائے اور وہ مٹی قبر پر ڈال دی جائے تو اس سے مردے کو عذابِ قبر نہیں ہوگا‘‘،کیا ایسی کوئی حدیث ہے جو قابلِ عمل بھی ہو , سند کے اعتبار سے؟ یہاں ایک مفتی صاحب نے اس کو موضوع اور من گھڑت کہا ہے، اس حدیث کا حوالہ درجِ ذیل ہے:
کتاب کانام:"مختصرالقدوری" (مصنف:الامام ابی الحسین احمدبن محمدبن احمدالبغدادی القدوری رحمہ اللہ)[مکتبۃ البشری]صفحہ =۱۸۸=حاشیہ(۶) قوله : ثم یھال التراب , و فی((کتاب النودین)) : من اخذ من تراب القبر بیدہ ، و قرأ علیه سورة القدر سبعا ، و ترکه فی القبر لم یعذب صاحب القبر (الفتح و الجوھرۃ)-
سوال میں مذکور حدیث " من اخذ من تراب القبر بيده ، ثم قرأ عليه سورة القدر سبعاً ، و تركه في القبر لم يعذب صاحب القبر " حدیث کی کسی معتبر کتاب میں ہمیں نہیں ملی، اس لئے بغیر تحقیق کے اسے نبی کریمﷺ کی طرف منسوب کرکے بیان کرنادرست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0