میں نےدو طلاقیں عرصہ بیس سال میں دیں , تیسری طلاق میں بیوی کو صبح اس طرح کہا’’ اگر تو رات 9 بجے تک مجھے بلانے میں پہل نہ کرے , معافی نہ مانگے تو تجھے طلاق ہے‘‘تھوڑی دیر بعد بیوی نے کہا کہ میں معانی کس چیز کی مانگوں ؟ بیوی کا یہ جملہ پہلے بلانا سمجھا جائے گا ؟ کیا طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی ؟ از راہِ کرم فتوی مطلوب ہے , یہ حقیقی واقعہ ہے فرضی بات نہیں . مہربانی فرمائیے۔
مسئلہ مذکورہ میں شوہر کا بیوی کو یہ کہنا کہ ’’اگر تو رات 9 بجے تک مجھے بلانے میں پہل نہ کرے، معافی نہ مانگے تو تجھے طلاق ہے‘‘ اس جملہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر نے طلاق کو دو چیزوں کے ساتھ معلق کیا (1) پہل نہ کرنے کے ساتھ (2) معافی نہ مانگنے کے ساتھ ، اب اگر پہل کرنے سے بات چیت مراد ہو تو بیوی کا یہ کہنا کہ میں کس چیز کی معافی مانگوں اس جملہ سے ایک چیز یعنی پہل کرنا پایا گیا لیکن دوسری چیز جو معافی مانگنا ہےنہیں پائی گئی , لہذا رات 9 بجے تک اگر بیوی نے معافی مانگ لی ہو تو دوسری چیز بھی پائی گئی لہذا طلاق واقع نہ ہو گی اور اگر ایسا نہ ہوا ہو تو شرعاً تیسری طلاق واقع ہو چکی ہے جس کا حکم یہ ہے کہ اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔
کمافي بدائع الصنائع: وأما التعليق بشرط فنوعان: تعليق في الملك، وتعليق بالملك.
والتعليق في الملك نوعان: حقيقي، وحكمي أما الحقيقي: فنحو أن يقول لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو إن كلمت فلانا أو إن قدم فلان ونحو ذلك وإنه صحيح بلا خلاف؛ لأن الملك موجود في الحال، فالظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط، فكان الجزاء غالب الوجود عند وجود الشرط فيحصل ما هو المقصود من اليمين وهو التقوي على الامتناع من تحصيل الشرط فصحت اليمين، ثم إذا وجد الشرط، والمرأة في ملكه أو في العدة يقع الطلاق وإلا فلا يقع الطلاق، ولكن تنحل اليمين لا إلى جزاء حتى إنه لو قال لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق فدخلت الدار وهي في ملكه طلقت (4/282)
وفی التاتارخانیه:ولوقدم التعلیق بان قال ان جاء فلان وان جاء فلان (الی قوله)فانت طالق لایقع الطالق الابوجود الفعلین اھ (4/128)
وفی البحرالرائق: والطلاق المضاف إلى وقتين ينزل عند أولهما، والمعلق بالفعلين عند آخرهما، والمضاف إلى أحد الوقتين كقوله غدا أو بعد غد طلقت بعد غد ولو علق بأحد الفعلين ينزل عند أولهما، والمعلق بفعل أو وقت يقع بأيهما سبق، وفي الزيادات إن وجد الفعل أولا يقع ولا ينظر وجود الوقت، وإن وجد الوقت أولا لا يقع ما لم يوجد الفعل اهـ.وفيها من فصل الاستثناء أنت طالق ثلاثا إلا واحدة غدا أو إن كلمت فلانا تعلق ثنتان لمجيء الغد وكلام فلان اهـ.(3/26)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0