السلام وعلیکم.
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس حدیث کے بارے میں کہ یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف یا موضوع؟
اماں عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتی ہیں کہ نہ میں نے حضور اکرم (ص) کی شرم گاہ دیکھی نہ انہوں نے میری (مفہوم حدیث)
برائے مہربانی اس حدیث کی سند اور جن محدث نے اس حدیث کو صحیح یا ضعیف کہا ان کا نام بھی بتادیں. اور کیا میاں بیوی ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھ سکتے ہیں.
برائے مہربانی جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں. جزاک اللہ خیر
محدثین کی تصریح کے مطابق سوال میں مذکور حدیث سنداً ضعیف ہے، جبکہ میاں بیوی کے لیے ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھنا اگرچہ جائز ہو، مگر اس سے بچنا افضل و اولیٰ ہے۔
قال اللہ تعالیٰ:﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ، إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ، فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ﴾ (المؤمنون: 5 – 7)
و فی فتح الباري لابن رجب: ويدل على أن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كانَ يستتر عند اغتساله معَ أهله: ما خرجه الإمام أحمد وابن ماجه من حديث عائشة، قالت: ما رأيت فرج رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قط. لكن؛ في إسناده من لا يعرف. (1/ 334)
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله ومن عرسه وأمته) فينظر الرجل منهما وبالعكس إلى جميع البدن من الفرق إلى القدم ولو عن شهوة، لأن النظر دون الوطء الحلال قهستاني اھ(6/ 366)
و فیه أیضاً: (قوله والأولى تركه) قال في الهداية: الأولى أن لا ينظر كل واحد منهما إلى عورة صاحبه لقوله - عليه الصلاة والسلام - «إذا أتى أحدكم أهله فليستتر ما استطاع ولا يتجردان تجرد العير» ولأن ذلك يورث النسيان لورود الأثر،(إلی قوله) وعن أبي يوسف سألت أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته، وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا قال: لا وأرجو أن يعظم الأجر ذخيرة اھ(6/ 366) ـــــــــــــــــــــــــــ والله أعلم بالصواب!
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0