میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آج کل یہاں ایک ٹرینڈ چل رہا ہے سرخ لیکویڈ کو تلاش کر کے بیچنے کے بارے میں، جو چمگاڈر کے گھونسلوں میں ہوتا ہے ، رشین اور جرمن کے بہت سے بوڑھے لوگ ریڈیو، ٹی وی، فریج، فون سیٹ ، ٹیلی اسکوب وغیرہ بناتے ہیں، کیا اس سرخ لیکویڈ کو بیچنا جائز ہے ، حلال ہے یا حرام ؟ ایک گرام کی ویلیو ایک ملین ہے ، گوگل سرچ میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کینسر ویکسین میں استعمال ہوتی ہے، جبکہ کچھ دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ آٹو میٹک ویپن میں استعمال ہوتی ہے، اللہ بہتر جانتا ہے، براہِ مہربانی راہ نمائی فرمائیں۔
مذکور لیکویڈ سے اگر شرعاً انتفاع ممکن ہو ، اور اس کی خرید و فروخت قانوناً ممنوع نہ ہو، تو سائل کے لئے اسے بیچنے کی شرعاً گنجائش ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): مطلب في وجوب طاعة الإمام (قوله: افترض عليه إجابته) والأصل فيه قوله تعالى {وأولي الأمر منكم} [النساء: 59] وقال - صلى الله عليه وسلم - «اسمعوا وأطيعوا ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع» وروي «مجدع» وعن ابن عمر أنه - عليه الصلاة والسلام - قال «عليكم بالسمع والطاعة لكل من يؤمر عليكم ما لم يأمركم بمنكر» ففي المنكر لا سمع ولا طاعة ثم إذا أمر العسكر بأمر فهو على أوجه: إن علموا أنه نفع بيقين أطاعوه وإن علموا خلافه كأن كان لهم قوة وللعدو مدد يلحقهم لا يطيعونه، وإن شكوا لزمهم إطاعته، وتمامه في الذخيرة اھ (4/ 264، 265)-
وفيه ايضاً: إذا أمر الإمام بالصيام غير الأيام المنهية وجب لما قدمناه في باب العيد من أن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة اھ (2/ 185)-
وفيه ايضاً: [مطلب طاعة الإمام واجبة] (قوله: أمر السلطان إنما ينفذ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله أمرك قاض بقطع أو رجم إلخ التعليل بوجوب طاعة ولي الأمر و في ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب اهـ وقدمنا أن السلطان لو حكم بين الخصمين ينفذ في الأصح وبه يفتى. (5/ 422)-
و في الأشباه والنظائر – حنفي: إذا كان فعل الإمام مبنيا على المصلحة فيما يتعلق بالأمور العامة لم ينفذ أمره شرعا إلا إذا وافقه فإن خالفه لم ينفذ اھ (ص: 151)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1