میں نے اپنی بیوی کی طنزیہ باتوں کی وجہ سے غصے میں اسے کہا کہ ’’ آج کی رات حرام ہے جو تجھے ہاتھ بھی لگاؤں ‘‘ کیا اب اس صورت میں نکاح لازم ہو گیا ؟
مذکور الفاظ کہنے کے بعد اگر سائل نے اسی رات بیوی کو ہاتھ نہ لگایا ہو تو فقط اس جملہ کیوجہ سے اسکی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اور دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں البتہ مذکور الفاظ کہنے کے بعد اگر سائل نے اس رات بیوی کو ہاتھ لگایا ہو یا میاں بیوی والے تعلقات قائم کیے ہوں تو اسکی وجہ سے اسکی بیوی پر ایک طلاق ِبائن واقع ہو چکی ہے جسکے بعددوبارہ ایک ساتھ رہنے کے لئے با قاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ دوبارہ عقدِ نکاح کر نالازم ہو گا تاہم اس نکاح کے بعد آئندہ کیلئے سائل کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیارہو گا اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔
کمافي الدر المختار : (وتبين في البائن والحرام) أي أنا منك بائن أو أنا عليك حرام (إن نوى) لأن الإبانة لإزالة الوصلة والتحريم لإزالة الحل وهما مشتركان فتصح الإضافة إليه، حتى لو لم يقل منك أو عليك لم يقع بخلاف أنت بائن أو حرام حيث يقع إذا نوى اھ(3/252)-
وفیه ایضاً: (وإن نوى الوقت أو الشرط اعتبرت) نيته اتفاقا ما لم تقم قرينة الفور فعلى الفور.اھ(3/280)-
وفی ردالمحتار: لو أسنده إلى نفسه لم يقع؛ فحيث لم يكن صالحا للإيقاع منه لم يصلح للجواب منها فهذا هو الصواب في تقرير هذا الضابط(3/325)-
کمافي الفتاوى الهندية: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق(1/420)-
وفی المبسوط للسرخسی: والمعلق بالشرط ليس بطلاق، وإنما يصير طلاقا عند وجودالشرط فما صح تعليقه بالشرط ينزل عند وجود الشرط جملة اھ (4/127)-
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0