ایک آدمی نے اپنی بیوی کو خاص گولی ( جو مانع حمل ہے )کھانے سے منع کیا ہےاور اسکو بتایا ہے کہ ’’ اگر تونےاس گولی کو کھایا تو کلاً طلاقی“ ایک سال کے قریب کے گذرنے کے بعد زوجین دو ڈاکٹر متخصص کے پاس جاتے ہیں تا کہ بیوی حاملہ ہوجائے اور دونوں ڈاکٹر اسی گولی کوتجویز کرتے ہیں کہ ایک مدت تک اسکا کھانا ضروری ہے، اس لئے کہ رحم ضعیف ہو چکا ہے تاکہ دوبارہ حمل کے لئے آمادہ ہو جائے اس لئے شوہر بھی کہتا ہے اب تو مجاز ہے اس گولی کو کھاؤ، اور بیوی نے کھا لیا ہے تو اب سوال یہ ہے کہ کیا تجویزِ متخصص اور بچہ کی ضرورت کی لحاظ سےتعلیق باطل ہوگی یا نہیں ؟ اور طلاق واقع ہوگئی ہے ؟ اور کتنی واقع ہو چکی؟ براہِ کرم جواب میں تعجیل کریں -
مذکور شخص نے جب اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے کہ "اگر تو نے یہ گولی کھائی تو تمہیں” کلا ًطلاقی“ ( یعنی تمہیں مکمل طلاق ہے ) “ تو اس سے ایک طلاق بائن معلق ہوگئی تھی، جس کے بعد اگر مذکور شخص کی بیوی نے وہی مانعِ حمل گولیاں استعمال کی ہوں جس سے اس کے شوہر نے اسے منع کیا تھا تو اگرچہ ایسا اس نے شوہر کی اجازت اور ڈاکٹر کی تجویز کے بعد کیا تب بھی اس کی وجہ سے اس پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہے ، جس کا حکم یہ ہے کہ دوبارہ ایک ساتھ رہنے کے لئے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا اور عورت دوسری جگہ شادی کرنے میں بھی آزاد ہوگی، تاہم دوبارہ نکاح کی صورت میں سائل کو آئندہ فقط دو طلاقوں کا اختیار رہے گا ، جب کبھی وہ دو طلاقیں دیدے گا تو سائل کی بیوی اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔
كما في الدر المختار: (و) يقع (ب) قوله (أنت طالق بائن أو ألبتة) وقال الشافعي: يقع رجعيا لو موطوءة (أو أفحش الطلاق أو طلاق الشيطان أو البدعة، أو أشر الطلاق، أو كالجبل أو كألف، أو ملء البيت، أو تطليقة شديدة، أو طويلة، أو عريضة أو أسوه، أو أشده، أو أخبثه) أو أخشنه (أو أكبره أو أعرضه أو أطوله، أو أغلظه أو أعظمه واحدة بائنة) في الكل لأنه وصف الطلاق بما يحتمله (إن لم ينو ثلاثا) في الحرة وثنتين في الأمة اھ(3/277)۔
وفی ردالمحتار: (قوله أو كالجبل) قال في البحر: الحاصل أن الوصف بما ينبئ عن الزيادة يوجب البينونة اھ (3/277)
وفی التنویر: (شرطه الملك) (كقوله لمنكوحته) (، أو الإضافة إليه) (كإن) (نكحتك فأنت طالق) اھ (3/344)۔
وفی الدر (وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا اھ(3/355)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0