اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی دبر میں جماع کرے،اور پھر نادم ہوکر اپنے اوپر قسم ڈال لے کہ اگر آئندہ میں ایسا کروں تو بیوی کو ایک طلاقِ رجعی ہے، اب اگر وہ مختلف عرصے میں ایک سے زائد بار دبر میں جماع کرلے، تو کیا ہر بار ایک طلاق واقع شمار ہو گی یا صرف اس نے جو قسم میں ایک بار کا ذکر کیا تھا وہی ایک ہی واقع ہو گی ؟ برائے مہربانی وضاحت فرمادیں ۔
صورت ِمسئولہ میں شخصِ مذکور کا پہلی بار اپنی بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرنے سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گی ، اس کے بعد دوبارہ اس مقام میں جماع کرنے سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہو گی ، تاہم دبر کے راستے سے جماع کرنا انتہائی قبیح اور حرام عمل ہے ، جس کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا اس فعلِ قبیح سے اجتناب لازم ہے۔
كما في الهندية :( الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه وفيه أربعة فصول الفصل الأول في ألفاظ الشرط) ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت لأنها تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما اھ(ج 1 ص 415) -
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0