السلام علیکم!
بعد عرض ہے کہ ایک شخص نے بیوی کو کہا کہ اگر تم میری اجازت کے بغیر فلاں کی گھر چلی گئی تو تم تین طلاق پر طلاق ہو جائے گی؟ اب بعض علماءِ کرام فرماتے ہیں کہ مغلظ سے بچنے کے لئے اس کو چاہئیے کہ وہ اس بیوی کو ایک طلاقِ بائن دے دے پھر عدت کے بعد وہ عورت اس گھر میں چلی جائے اور اس کے بعد تجدیدِ نکاح کیا جائے تو اس کے بعد اگر وہ عورت اس گھر میں چلی جائے تو پھر طلاق واقع نہ ہو گی؟ تو مطلوب یہ ہے کہ کیا یہ درست ہے یا نہیں ؟ اور بائن کن الفاظ سے دیا جائے؟ اور اگر یہ درست نہیں تو دوسرا حیلہ بھیج دیں ؟ شکریہ
بہتر تدبیر اور حیلہ یہی ہے کہ شخصِ مذکور کی بیوی متعلقہ شخص کے گھر بغیر اجازت لیے ہر گز نہ جائے، بلکہ اجازت لیکر ہی جائے، اور پوری زندگی اس پر عمل پیرا رہے، البتہ اگر سوال میں مذکور تدبیر کو ہی اختیار کرنا ہو، تو براہِ راست کسی مستند عالمِ دین یا مفتی سے خوب سمجھنے کے بعد اس پر عمل کیا جائے۔
كما في الدر المختار: فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها اھ (3/ 355)-
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): لو حلف لا تخرج امرأته إلا بإذنه فخرجت بعد الطلاق وانقضاء العدة لم يحنث وبطلت اليمين بالبينونة، حتى لو تزوجها ثانيا ثم خرجت بلا إذن لم يحنث. (3/ 354)-
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0