کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید نے اپنے گھر والے سے کہا کہ ’’اگر اسکی بیوی گل منجن کرتی ہے تو اسکو طلاق‘‘بعد میں پتہ چلا کہ اس نے ایک دوبار گل منجن کیا تھا ,عادت نہیں تھی اسکی روز روز کر نیکی ,تو طلاق کا کیا حکم ہے اور دوسری بات یہ اوپر کا جو مسئلہ ہے یہ حقیقت نہیں ہے , یہ سوال جو کیا ہے یہ جاننے کیلئے کیا ہے ,اس سے طلاق واقع ہو گی یانہیں ؟ یعنی کہ زید نے یہ سوال بنایا ہے علم حاصل کرنے کیلئے , تو کہیں اس سے بھی تو طلاق واقع نہیں ہو گی کہ زید سوال میں جھوٹ موٹ طلاق کاذکر کیا ہیکہ میں نے طلاق دی ہے ؟ حالانکہ اس نے طلاق حقیقت میں دی نہیں ہے ,صرف جاننے کیلئے کہ اس طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ مسائلِ طلاق دریافت کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، جبکہ صورتِ مسئولہ میں مسمیٰ زید کی بیوی گل منجن کرتی ہوتواس پر ایک طلاق واقع ہوگئی جس کا حکم یہ ہے کہ زید عدت کے اندر رجوع کرنا چاہے تو رجوع کر سکتا ہے جبکہ عدت کے بعددوبارہ نکاح کرنا لازم ہو گا بہر دو صورت زید کو آئندہ دو طلاقوں کا اختیار رہے گا، جب بھی وہ دو طلاقیں دیدے گا تو اسکی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی -
فی الدرالمختار:(وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما فإنه ينحل بعد الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعال اھ(3/352)-
وفی ردالمحتار : (قوله أي تبطل اليمين) أي تنتهي وتتم، وإذا تمت حنث فلا يتصور الحنث ثانيا إلا بيمين أخرى لأنها غير مقتضية للعموم والتكرار اھ(3/352)-
وفیه ایضاً:(قوله أو لم ينو شيئا) احترازا عما لو كرر مسائل الطلاق بحضرتها، أو كتب ناقلا من كتاب امرأتي طالق مع التلفظ، أو حكى يمين غيره فإنه لا يقع أصلا ما لم يقصد زوجته اھ(3/250)-
و فی فتح القدیر:ولو حلف لا يأكل هذا الشيء كالرغيف مثلا فأكل بعضه قال أبو بكر الإسكاف: إن كان شيئا يمكنه أن يأكله كله في مرة لا يحنث بأكل بعضه، وقال بعضهم: إذا أكل بعض ما لا يمكن أن يأكل كله في مجلسه يحنث في يمينه وهو الصحيح. اھ(5/205)-
وفی الھندیة:رجل قال: إن دخلت الدار إن دخلت الدار فأنت طالق قال ذلك في دار واحدة فدخلت الدار مرة واحدة طلقت استحسانا كذا في فتاوى قاضي خان. اھ(1/428)-
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0