زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو اپنے ابّا کے گھر ۶ مہینے تک گئی تو 3 طلاق ، کیا زید اپنی شرط واپس لے سکتا ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں زید اپنی شرط واپس لینے کا مجاز نہیں لہذا اگر زید کی بیوی چھ مہینے کے اندر اپنے ابّا کے گھر گئی، تو شرط کے مطابق اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی ، اس لئے زید کی بیوی کو چھ ماہ تک اپنے والد کے گھرجانے سے احتراز کرنا لازم ہے۔
کمافي تبيين الحقائق : (باب التعليق) قال - رحمه الله - (إنما يصح في الملك كقوله لمنكوحته إن زرت فأنت طالق أو مضافا إليه) أي إلى الملك (كإن نكحتك فأنت طالق فيقع بعده) أي يقع الطلاق بعد وجود الشرط وهو الزيارة في الأول والنكاح في الثاني اھ(2/231)
وفي الهندية : وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق (ج ۱ ص ۴۲۰)
وفیہ ایضا : وليس للزوج أن يرجع في ذلك ولا ينهاها عما جعل إليها ولا يفسخ كذا في الجوهرة ( ج ۱ ص ۳۸۷).
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0