سوال فقہ حنفی میں مذکور ہے کہ اگر کسی مرد طلاق کو نکاح کے ساتھ معلّق کرے تو ایسی تعلیق صحیح ہے نکاح کے بعد طلاق ہو جائے گی میرا سوال یہ ہے اگر آدمی الفاظ تعلیقات کو دل ہی دل ادا کریں اور صرف دے دیا ،دید و، دیدی وغیرہ الفاظ کومنہ سے ادا کرے تو ایسےتعلیق صحیح ہوگا یا نہیں؟ اسے کیا نکاح کے بعد طلاق واقع ہو جائے گی ؟ مثلاً آدمی کا دل ہی دل کہنا کہ ”جس کسی عورت سے نکاح کروں اسے طلاق دیدیا اب واقعتا اس شخص نے الفاظ تعلیقات کو دل دل میں اد کیا صرف ”طلاق دیدیا “یا ”دیدیا “کو تلفظ کیا توکیا حکم ہو گا آپ حضرات کے پاس تحقیق مقصد ہے شکریہ۔
اگر کوئی شخص نکاح سے پہلے الفاظ تعلیق زبان سے ادا نہ کرے بلکہ ان الفاظ کو دل ہی دل میں سوچ کر زبان سے صرف اتنا کہے کہ ”دے دیا، دے دی وغیرہ“ تو ان الفاظ سے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا نکاح کرنے کے بعد اسکی وجہ سے شرعاً اسکی بیوی پرکوئی طلاق واقع نہ ہو گی۔
كما في بدائع الصنائع : وأما بيان ركن الطلاق فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق (إلى قوله) وأما الذي يقوم مقام اللفظ فالكتابة والإشارة على ما نذكر إن شاء الله تعالى الخ (ج 3 ص ۹۹/۹۸)
و في الدرا المختار: (شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق) (، أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق) وكذا كل امرأةالخ
و في الرد: تحت (قوله وكذا كل امرأة) أي إذا قال: كل امرأة أتزوجها طالق اھ(3/345)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0