ابھی نکاح نہیں ہوا، صرف منگنی ہوئی ہے، میری امی نے مجھ سے کہا کہ اگر تیری بیگم نے کہا میں نے یہاں نہیں رہنا ،تو کیا کرے گا، میں نے کہا کہ ’’ اگر ایسی بات ہوئی تو میری طرف سے فارغ ‘‘ میری ماں ہنس پڑی اور کہا بس کر میں نے پھر کہا، سچ میں فارغ ، مفتی صاحب آیا نکاح کے بعد اگر وہ لڑ کی ایسا کہے گی تو کیا اس کو طلاق ہو جائے گی ؟
خط کشیدہ الفاظ کا اثر سائل کے نکاح پر تو نہیں پڑے گا، تا ہم اس طرح کی بے ہودہ گفتگو سے آئندہ احتراز چا ہئیے۔
کمافی الھندیة: ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك فإن قال لأجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدار لم تطلق كذا في الكافي اھ(1/420)-
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0