میں نے ایک دوکان سے سامان منگوا نے کے لیے پیسے دیئے، اور تین دن کا وقت طے پا گیا ،مگر تین دن سے زیادہ دو مہینے گزر گئے ،اس نے سامان نہیں دیا ،اب وہ سامان میں نے بازار سے اوپن مارکیٹ ریٹ پر خرید کر جس کی امانت تھی وہ دے دی ہے، اب میں دوکاندار سے اپنی رقم واپس اور وہ اضافی رقم مانگ رہا ہوں جو میں نے بازار سے زیادہ قیمت میں خرید کر دوسرے بندے کو امانت واپس کی یہ میرا اضافی رقم کا مطالبہ جائز ہے؟
اگر چہ شخص مذکور حسب وعدہ وہ چیز بازار سے فراہم کرنے سے قاصر رہا ،بلکہ قصداً ،اس کوتاہی کی بناء پر گناہ گار بھی ہوا ہے، مگر سائل نے جب اس کی بجائے کہیں اور سے وہ چیز خرید لی تو صرف اس کا اپنی دی ہوئی رقم لینا جائز ہے، مہنگی خریدنے کی صورت میں اس کو جو اضافی رقم دینی پڑی ہے، اس کا پہلے والے شخص سے لینا درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
ففي الأشباه والنظائر – حنفي: - الخلف في الوعد حرام كذا في أضحية الذخيرة و في القنية : و عده أن يأتيه فلم يأته لا يأثم ولا يلزم الوعد إلا إذا كان معلقا كما في كفالة البزازية و في بيع الوفاء كما ذكره الزيلعي (ص: 320)۔
و في شرح الاشباه والنظائر :فان امر : ( اوفوا بالعقود مطلق فيحتمل عدم الاثم في الحديث على ما اذا منع مانع من الوفاء اھ (۲ْ ۲۶۴) واللہ اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1