میں نے اپنی بیوی کو یہ کہا کہ ’’ اگر تم 25 روزے تک واپس نہیں آئی تو میں تمہیں کبھی بھی نہیں رکھوں گا ‘‘اور یہ میں نے طلاق کی نیت سے نہیں بلکہ یہ کہہ کر کہا کہ نہ تو تمہیں طلاق دوں گا نہ ہی رکھوں گا اور یہ میسج دو بار کیا تھا کہ تم کل تک آجانا , ور نہ کبھی مت آنا , کیا اس سےطلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟
مفتی غیب نہیں جانتا , سوال کے سچ یا جھوٹ ہونے کی ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے، اس کے بعد واضح ہو کہ سائل نے اگر مذکور خط کشیدہ الفاظ سے واقعۃً طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو اس سے اسکی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے ، مگر آئندہ کیلئے اسےچاہئیے کہ ایسے الفاظ کہنے سے احتراز کرے۔
کمافی الھندیة: ولو قال لها اذهبي أي طريق شئت لا يقع بدون النية وإن كان في حال مذاكرة الطلاق اھ(1/376)-
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0