محترم مفتی صاحب السلام علیکم!
میں تبلیغی بھائیوں کے اس اعلان کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنا چاہتا ہوں کہ ’’جب تم تبلیغی اجتماع کے لیے جاؤ گے تو تمہاری نماز ایک کی بجائے 49 کروڑ گنا بڑھ جائے گی۔ تو جب ہم مسجدا حرام میں نماز پڑھتے ہیں تو یہ 70 ہزار گنا یا شاید کچھ اور بڑھ جاتی ہے۔ برائے مہربانی کیا ہمارے لیے یہ جاننا ممکن ہے کہ کوئی حدیث یا کوئی اور معلومات ایسی ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہو ۔ کیونکہ میں نے یہ بات تبلیغی بھائیوں سے بہت زیادہ سنی ہے۔
دین کی اشاعت و تبلیغ یا تحصیل علم دین یا جہاد فی سبیل اللہ و غیرہ میں نکلنے یا لگنے والوں کے نماز ، روزہ ، ذکر وغیرہ کے بارے بارے میں ایسی کوئی صریح حدیث تو ملی نہیں، جس کے الفاظ سے صاف صاف ثابت ہو کہ ایک نماز اور ایک تسبیح وغیرہ کا ثواب انچاس کروڑ کے برابر ملتا ہے، البتہ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکل کر اپنی ذات پر خرچ کرنے والے کو ایک درہم کے بدلے میں سات لاکھ درہم خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے اور دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی کی راہ میں نکل کر نماز، روزہ، ذکر کا ثواب اللہ کی راہ میں روپیہ خرچ کرنے سے سات سو گنا ملتا ہے۔
اس طرح سات لاکھ کو سات سو میں ضرب دینے سے انچاس کروڑ بن جاتے ہیں۔ اس حساب سے اللہ کے راستے (تعلیم دین ، جہاد اور تبلیغ ) میں نکلنے والوں کے لیے نماز ، روزہ اور ذکر تسبیح کا ثواب ، انچاس کروڑ گنا بنتا ہے، لیکن اولاً تو یہ دونوں حدیثیں سنداً ضعیف ہیں اس لئے ان سے استدلال اور ان کے ضعف پر تنبیہ کئے بغیر ان کی تشہیر عام طور پر جائز نہیں، ثانیاً فضائل میں ضعیف حدیث کو بیان کرنے کے جواز کی شرائط بھی اس میں موجود نہیں، اس لیے اس کو بیان کرنے سے احتراز بہتر ہے اس کی بجائے فضائل کی صحیح اور صریح احادیث بیان کرنے کا التزام کیا جائے ۔ (ماخوذ از رسائل الرشید)
كما في الترغيب والترهيب للمنذري: عن الحسن بن علي بن أبي طالب وأبي الدرداء وأبي هريرة وأبي أمامة الباهلي وعبد الله بن عمر وجابر بن عبد الله وعمران بن حصين رضي الله عنهم كلهم يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال من أرسل نفقة في سبيل الله وأقام في بيته فله بكل درهم سبعمائة درهم ومن غزا بنفسه في سبيل الله وأنفق في وجهه ذلك فله بكل درهم سبعمائة ألف درهم ثم تلا هذه الآية {والله يضاعف لمن يشاء} اھ (2/ 162)
وفي بذل المجهود في حل سنن أبي داود: عن يحيى بن أيوب وسعيد بن أبي أيوب، عن زبان بن فائد، عن سهل بن معاذ، عن أبيه) معاذ بن أنس (قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إن الصلاة والصيام والذكر)، ويدخل فيه التسبيح والتهليل والتكبير والتصلية وقراءة القرآن بالتدبر وغير ذلك من أنواع الذكر (يضاعف) أي يزاد باعتبار الأجر والثواب (على النفقة في سبيل الله عز وجل بسبع مائة ضعف). (إلى قوله) والحديث ضعيف لأن في سنده زبان بن فائد وسهل بن معاذ اھ (9/ 44) والله تعالى اعلم بالصواب
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0