محترم جناب! میں ایک انجینئرنگ کمپنی میں ملازم ہوں(کمپنی کا مالک ایک عیسائی اور ایک مسلمان ہے) جبکہ میں ایک پروجیکٹ انجینئر ہوں، ہم مختلف کمپنیوں کے لئے منصوبے تیار کرتے ہیں، اور میں ان منصوبوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں، ان منصوبوں کے دوران ہماری کمپنی کوئی مشینی کام نہیں کرتی، اور ہم ان مشینی کاموں کے لئے دوسرے ٹھیکیداروں کو ملازم رکھتے ہیں، میں نے شراکت کے ساتھ ایک کمپنی بھی رجسٹرڈ کروائی ہوئی ہے، اور وہ مشینی کام بھی اپنی کمپنی کو دیے ہوئے ہیں، کیونکہ سابقہ کمپنی جس کو ہم نے کچھ کام دیا تھا وہ اس خطرناک کام کو کرنے کے لئے تیار نہ ہوئی۔
1-اب اگر میں اپنے مالک کو یہ بتاتا ہوں کہ یہ کمپنی میری ملکیت ہے، تو اس کی اسلام میں کیا اہمیت ہے؟
2-اور اگر وہ خود ہی اسکی قیمت کا اندازہ کرلیں، یا حساب لگالیں تو پھر انہیں کیا کرنا چاہیئے؟
1-سائل جو مشینی کام اپنی شراکتی کمپنی سے کرواتے ہیں، اگر اس میں کوئی دھوکہ دہی نہ ہو، اور مارکیٹ ریٹ کے مطابق کام کرکے دیتے ہوں تو اس میں بھی حرج نہیں، اور نہ مالکان کو بتانا ضروری ہے۔
2-جبکہ دوسرا سوال قابل وضاحت ہے، لہذا سائل کو چاہیئے کہ دوبارہ وضاحت سے لکھ کر ای میل کردے تاکہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جاسکے۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1