میں قسطوں پر بائیک (موٹر سائیکل) لینا چاہتا ہوں، مہربانی فرما کر اسلام کی رو سے بتائیے؟
واضح ہو کہ کسی چیز کے قسطوں پر خریدنے کیلئے شرعاً درج ذیل چند شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ،تاکہ یہ معاملہ جائز بھی ہو ،اور وہ شرائط یہ ہیں: پہلی مجلس عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ نقد ہو گا یا اُدھار ،اور یہ کہ کل قیمت اور قسطیں کتنی اور ہر قسط کی مالیت کیا ہو گی، اور یہ کہ کسی قسط کے مؤخر ہو جانے پر کسی قسم کا کوئی جرمانہ بھی نہیں ہوگا، اس طرح معاملہ کرنے کی صورت میں اُدھار کی وجہ سے اگر بمقابلہ نقد کچھ زیادہ نرخ طے ہو جائیں، تو یہ بھی شرعاً جائز اور درست ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: رجل باع على أنه بالنقد بكذا وبالنسيئة بكذا وإلى شهر بكذا وإلى شهرين بكذا لم يجز كذا في الخلاصة (3/ 136)۔
وفي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي - صلى الله عليه وسلم - عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ (13/ 8)۔
و في شرح المجلة: البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح (إلى قوله) يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتاجيل والتقسيط اھ (۲/۱۶۶تا ۱۶۷) ۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1