السلام علیکم ورحمتہ اللہ
1: ایک بیان میں سنا تھا شہید کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جو پروٹوکول دیں گے اس راستہ میں اگر ابرہیم علیہ السلام آجائیں تو اللہ پاک کہیں گے آپ اس راستہ سے ہٹ جائیں جبکہ ابرہیم علیہ السلام اللہ کے خلیل ہیں اور میرا یہ عقیدہ ہے کہ کروڑ شہید بھی اگر ہوں تو ابرہیم علیہ السلام کے پاؤں کے خاک کے برابر نہیں ہو سکتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا کہ اللہ پاک ان کو ہٹائیں گے ؟کیا یہ درست ہے ؟
اس کے بارے میں وضاحت فرما دیں
2:کیا ہم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اماں جان کہ سکتے ہیں ؟ جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو اماں جان کہا جاتا ہے پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا جو کہ صاحبزادی ہیں ان کو اماں جان کیسے کہا جاسکتا ہے ؟
اس کی بھی وضاحت فرما دیں
شہید کی فضیلت قرآن کریم اور احادیث صحیہ سے ثابت ہے آپ ﷺ نے انکے لیئے عظیم اجر و ثواب بیان فرمایا ہے تاہم سوال میں مذکور بات شہید کو قیامت کے دن ایسا پرٹوکول دیا جائے گا کہ اگر حضرت ابراھیم علیہ السلام بھی اس کے راستہ میں آجائیں تو ان سے کہا جائے گا کہ آپ ہٹ جائیں " پر مشتمل کوئی روایت کتب حدیث میں نہیں ملی بلکہ اس روایت کا ظاہر ہی اس کے عدم اعتبار پر دلالت کرتا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ انبیا ء علیھم الصلاۃ والسلام اللہ تعالی کی برگزیدہ اور منتخب مخلوق ہیں اور اللہ تعالی کے بعد سب سے بلند مرتبہ ان ہی کا ہے خصوصا حضرت ابراھیم علیھم الصلاۃ والسلام جو اولوالعزم انبیاء میں سے ہیں ان کے بارے میں اس نوعیت کی بات نہ شرعا درست معلوم ہوتی ہے نہ عقلا ۔ لہذا ایسی غیر ثابت روایات کو آپ ﷺ کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا جائز نہیں ہے ۔
2 ) : حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی کنیت ام ابیہا کا تذکرہ معتبر اھل علم جیسے حافظ ذہبی ، حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن حجر رحمہم اللہ تعالی نے کیا ہے یہ کنیت اس غیر معمولی محبت ، شفقت اور خدمت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو وہ آپ ﷺ کے ساتھ ماں کے انداز میں اختیار کرتی تھی چنانچہ اگر کوئی امتی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیئے محض ادب اور محبت کے اظہار کے طور پر امی جان کا لفظ استعمال کرے اور اس میں امہات المؤمنین کی شان اور فضیلت سے کوئی انکار مقصود نہ ہوتو اسکے کہنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے جیسا کہ کنیت ام ابیہا خود اس طرز تعبیر کے جواز پر دلادت کرتی ہے ۔
و کما فی اسد الغابۃ : "وكانت فاطمة تكنى أم أبيها، وكانت أحب الناس إلى رسول اللهﷺ " ( حرف الفاء ، ج : 4 ، ص : 518 ، ط : دارالکتب العلمیۃ بیروت )
وفی تاریخ الاسلام للذھبی ج : 2 ، ص : 29 ، ط : دارلغراب الاسلامی
وفی البدایۃ و النھایۃ ، ج : 9 ، ص : 485 ، ط : دار ھجر
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0