مسئلہ یہ ہے کہ ہم دونوں بھائیوں کا مشتر کہ ایک ہوٹل تھا، جس پر ہم دونوں قرعہ اندازی میں خلاف ہوئے ، اور ہم نے طلاق کہا کہ میں زبردستی یہ ہوٹل لونگا، اور پھر ہم نے یہ بھی طلاق کہا کہ ہم چلائینگے نہیں، یہ ہوٹل اب اگر ہم یہ خرید لیں ، تو مینیجر یا کسی فرد پر چلا سکتے ہیں یا نہیں ؟
نوٹ : طلاق الفاظ میں نے اس طرح کہے تھے ’’ خزہ بہ را باندے پہ شل زلہ طلاقہ ای چہ دا ہوٹل بہ تے زہ پر زور اخلم ‘‘ مجھ پر میری بیوی بیس دفعہ طلاق ہو گی کہ میں اس سے یہ زبردستی ہوٹل لے کر رہونگا ، اس کے بعد میں نے مزید یہ الفاظ بھی ادا کیے تھے ، "خزہ بہ را باندی طلاقہ آئی چہ دا ہوٹل بہ چلوم ہم نہ, خو ده نہ بہ اخلم ضرور ‘‘ ( کہ مجھ پر میری بیوی طلاق ہو گی کہ میں اس ہوٹل کو چلاؤ نگا بھی نہیں پر تم سے ضرور لونگا‘‘ اس دوسرے جملے کے متعلق مجھے صحیح طرح یاد نہیں ہے کہ یہ میں نے کتنی مرتبہ دہرایا، البتہ اتنا یاد ہے یہ جملہ میں نے کہا ضرور ہے۔
اب آپ حضرات سے معلوم یہ کرنا ہے کہ اب ہمارے درمیان الحمد لله تنازعات ختم ہو گئے ہیں، اور اب مجھے ہوٹل ملنے والا ہے، میری اپنی بات پر قائم رہنے اور ڈٹ جانے کی وجہ سے اب میرا بھائی ہوٹل دینے کے لئے آمادہ ہو گئے ہیں، تو دریافت طلب بات یہ تھی کہ اگر مجھے یہ ہوٹل مل جائے تو میرے ہوٹل چلانے کا کیا حکم ہے ؟
اگر کاؤنٹر پر بیٹھ کر ہوٹل چلانا میرے لئے ممکن نہ ہو تو کیا میرا بیٹا یا کوئی اور شخص بطور مینیجر اس ہوٹل کا انتظام سنبھال سکتا ہے ؟ میرا ہوٹل کے لئے سامان لانے، یا کوئی اور دیکھ بھال کرنے یا کسی قسم کی دخل اندازی کی وجہ سے بھی طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟ ہوٹل نہ چلانے سے میری نیت و رادہ کاؤنٹر پر بیٹھ کر چلانے کا تھا جیسا کہ عام طور پر رائج ہے۔
واضح ہو کہ سائل کا سوال میں درج خط کشیدہ الفاظ کہنے سے تعلیقِ طلاق منعقد ہو چکی تھی، جس کے بعد اب سائل اگر اپنی بات پر قائم رہنے اور ڈٹ جانے کی وجہ سے اپنے بھائی سے ہوٹل لے لیتا ہے ، جیسا کہ سوال سے بھی معلوم ہورہا ہے، تو شرط پوری ہو جائے گی ، اس لئے اس کی وجہ سے، تو سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہ ہو گی ، مگر سائل نے اس کے بعد یہ الفاظ بھی استعمال کیے ہیں، چہ خزہ بہ را باندے الخ اس کی وجہ سے بھی طلاق معلق ہو چکی ہے ، لہذا مذکور ہوٹل لینے کے بعد ، اسے چلانے اور انتظام سنبھالنے کی صورت میں سائل کی بیوی پر معلق طلاق واقع ہو جائیگی ، جبکہ سائل اگر ہوٹل ملنے کے بعد بذات خود ہوٹل نہ چلائے ، بلکہ اس کا بیٹا یا کوئی اور اس کے کہے بغیر از خود چلائے، تو اس سے اس کی بیوی پر طلاق واقع نہ ہو گی، البتہ بیٹا اور وہ دوسرا شخص اگر سائل ہی کے کہنے یا مشورہ و اجازت پر ہوٹل چلائے گا، تو اس کا مذکور ہوٹل چلانا، سائل کی طرف ہی منسوب ہو گا، اس لئے اس سے بھی مذکور معلق طلاق واقع ہو گی۔
كما في الفتاوى الهندية: ومنها في إذا دخل على الفعل كقوله أنت طالق في دخولك الدار يعني إن دخلت الدار هكذا في العتابية اھ (1/ 415)۔
و فيها ايضا : قال لامرأته طالق ثلاثا كه اينكار ميكند فإن لم يتعارفوا التعليق بقوله كه يقع للحال لأنه تحقيق وإن لم يتعارفوا التعليق إلا به لا تطلق ما لم يوجد الشرط وإن تعارفوا التعليق بهذا وبصريح الشرط ذكر الفضلي في فتاواه أنه يقع الطلاق للحال وبعض مشايخنا رحمهم الله تعالى قالوا لا يقع وهو الأصح كذا في المحيط اھ (1/ 416)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): والحاصل أنه إذا كرر أداة الشرط بلا عطف توقف الوقوع على وجودهما اھ (3/ 364)۔
و في الفتاوى الهندية: رجل حلف أن لا يدخل هذه الدار فدخلها راكبا أو ماشيا أو محمولا بأمره حنث كذا في الظهيرية وإن كانت الدابة قد انفلتت وهو راكبها لا يستطيع إمساكها فدخلت الدار فإنه لا يحنث في يمينه هكذا في المحيط وإن احتمله غيره فأدخله بغير أمره لم يحنث سواء كان راضيا بذلك بقلبه أو ساخطا وسواء كان قادرا على الامتناع أو لم يكن قادرا عليه عند عامة مشايخنا رحمهم الله تعالى وهو الصحيح وسواء أدخلها من بابها أو من غيره كذا في البدائع (2/ 68)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0