السلام علیکم! جناب میں ممبئی انڈیا کا رہنے والا ہوں کچھ دنوں پہلے میرے ایک دوست نے ایک حدیث بیان کی جو میں لفظ بلفظ نہیں بیان کرسکتا لیکن اس کا حاصل یہ تھا کہ ایک دن حضور اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ سے پیشانی کے بال اُٹھانے کیلئے کہا تو وہاں لکھا تھا ’’قل هو اللہ أحد‘‘ اس کے بعد حضرت عمرؓ سے فرمایا، وہاں لکھا تھا: ’’اللہ الصمد‘‘ جیسے کہ فرشتوں کی پیشانی پر لکھا ہے میں نے اعتراض کیا کہ بغیر ثبوت اتنی بڑی بات نہیں کہنی چاہیے وہ بھی حدیث کے نام سے تو اس نے کہا کہ یہ ترمذی شریف کی حدیث ہے میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا سچ میں ترمذی شریف میں ایسی کوئی حدیث ہے؟ اور اگر نہیں تو ایسے شخص کا کیا کیا جائے؟
سوال میں مذکور حدیث باوجود تلاش و تتبع کے نہ مل سکی، بظاہر یہ بات موضوع اور من گھڑت معلوم ہوتی ہے، اس لیے اس بات کو بطورِ حدیث بیان کرنا شرعاً جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔ و اللہ اعلم بالصواب!
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0