السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، جو شیئر مارکیٹ میں حلال اور حرام کے حوالے سے میری رہنمائی کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر میں کسی کمپنی کے شیئرز خریدتا ہوں اور 4-5 دن بعد انہیں فروخت کرتا ہوں، جب کہ اس کمپنی کا بنیادی کاروبار حلال ہے اور میں اس دوران کوئی ڈیویڈنڈ (یا منافع) وصول نہیں کر رہا، بلکہ ان دنوں کے دوران شیئر کی قیمت میں جو معمولی فرق آیا ہے، وہی میرا نفع ہے۔ مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب "فقہی مقالات" کے مطابق، اگر کسی کمپنی کا بنیادی کاروبار حلال ہو اور اس کے پاس نقد رقم کے علاوہ کچھ جسمانی اثاثے (physical assets) موجود ہوں، تو اس کے شیئرز خریدنے اور بیچنے کی اجازت ہے۔ تاہم اس حوالے سے کچھ کنفیوژن ہے۔ AAOFI کے مطابق، اگر کسی کمپنی کے سودی اثاثے 30 فیصد سے زیادہ ہوں تو اس کمپنی کے شیئرز کی خرید و فروخت حرام ہے۔ یہاں ایک کنفیوژن ہے: اگر کمپنی کا بنیادی کاروبار حلال ہے اور عموماً کمپنیوں کی اکثریت اپنی نقد رقم بینکوں میں جمع کرتی ہے،اور ان میں سے زیادہ تر اکاؤنٹس سیونگ اکاؤنٹس ہوتے ہیں تو اس بینک میں جمع شدہ رقم سے سود حاصل ہوتا ہے، لیکن وہ سود کمپنی کے ریونیو کا حصہ نہیں ہوتا۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی کمپنی کا بنیادی کاروبار حلال ہو اور اس کے پاس جسمانی اثاثے بھی ہوں، تو کیا ایسی کمپنی کے شیئرز کی خرید و فروخت جائز ہے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً۔ والسلام
کسی بھی کمپنی کے شیئر زکی خریدو فروخت کا حصہ بننے کے لیے اس کمپنی کے اصل کاروبار حلال ہونے کے ساتھ اس کا شرعیہ کمپلانٹس ہونا بھی لازم و ضروری ہے، جبکہ شرعیہ کمپلاٹنس ہونےکے لیے کمپنی کے سودی قرضوں کا مجموعی مالیت کے 33%اور اس پر حاصل ہونے والے سود کا مجموعی آمدن کے 5% سے کم ہونا ضروری ہے ، لہذا جس کمپنی کے مجموعی اثاثوں کے مقابلے میں اس کے غیر شرعی سرمایہ کاری کا تناسب معتد بہ نہ ہو(یعنی 33% سے کم ہو) تو اس کمپنی کے شیئر زکی خرید و فروخت کا حصہ بننے کی گنجائش ہے، بصورتِ دیگر جوکمپنی اس مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترتی ہو تو اس کے شیئرز کی خرید و فروخت کا حصہ بن کر اس سے منافع حاصل کر کے اپنے استعمال میں لانے سے احتراز چاہیئے۔
كما قال الله تعالى: ﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفی رد المحتار: و الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه."(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد ،ج:5،ص:99،ط: سعید)۔
وفيه ايضا : ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ ( ج 6 ص 385، ط: سعید)۔