شوہر نے بولا تھا کہ " مجھے ہاتھ نہیں لگانا اب "لیکن بیوی منانے کے لئے ہاتھ لگارہی تھی، تو اس بات پر بول دیا کہ اب ہاتھ لگایا تو حرام ہو گی، طلاق یا جدائی کا ذہن میں کچھ نہیں تھا، لیکن جیسے ہی بیوی نے منانے کے لئے ہاتھ لگایا ،تو شوہر نے دل میں فورا کہہ دیاکہ میں قسم واپس لیتا ہوں۔یہ مکمل کہانی ہے۔
شوہر کے اس قول سے کہ " مجھے ہاتھ نہیں لگانا اب ہاتھ لگایا تو حرام ہو گی " تعلیق طلاق منعقد ہو چکی تھی، پھر جب بیوی نے منانے کے لئے شوہر کو ہاتھ لگایا تو شرط پائی جانے کی وجہ سے معلق ایک طلاق بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہو چکا ہے، اب اگر میاں بیوی کی طرح رہنا چاہیں تو تجدید نکاح کے بعد رہ سکتے ہیں، مگر آئندہ کیلئے شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا ،جب کبھی یہ دو طلاقیں بھی دیدے گا تو بیوی اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائیگی۔
کمافی الھدایة: وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق " وهذا بالاتفاق اھ(1/ 244)
وفی البزازیة: انت علی حرام فی غیر حال مذاکرہ الطلاق ان نوی طلاقا فبائن وان نوی ثلاثا فثلاث وثنتین لایصح الا فی الامة وان ظھار فظھار وان نوی الیمین اولم ینوشیئا فیمین اھ(2/ 239)
وفی ردالمحتار: وإن كان الحرام في الأصل كناية يقع بها البائن لأنه لما غلب استعماله في الطلاق لم يبق كناية، ولذا لم يتوقف على النية أو دلالة الحال اھ(3/ 299)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0