میرا سوال یہ ہے کہ آج سے 9 یا 10 سال پہلے کی بات ہے جب میری عمر 14 یا 15 سال تھی، اور نہ ہی میں صحیح طرح سے بالغ تھا اور نہ ہی میرا نکاح ہوا تھا، مجھے ایک لڑکی جو کہ میری کزن تھی اچھی نہیں لگتی تھی ،تو اس وقت میں نے یہ اکیلے بولا تھا کہ میں اس سے شادی نہیں کروں گا اور شاید یہ الفاظ بولے ( طلاق) تھے اور اب یہ بھی یاد نہیں کہ کتنی بار بولے تھے اور کیا الفاظ بولے تھے، لیکن بعد میں اسی سے نکاح ہو گیا ہے، کیونکہ میرے والدین کی خوشی اسی میں تھے اور میں نے ان کا فیصلہ تسلیم کیا اور اسی سے نکاح کر لیا ،لیکن اب اچانک دس سال پرانی بات دماغ میں آئی ہے معلوم نہیں کیوں ؟ کیا یہ وسوسہ ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
برائے مہربانی مجھے بتائیں نکاح سے پہلے کہے گئے ایسے الفاظ ( جو کہ اب یاد بھی نہیں) کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ( یاد رہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب میں چودہ پندرہ سال کا تھا اور آپ بھی جانتے ہیں کہ ایسی عمر میں ایک بچے کا دماغ کیسا ہوتا ہے اور اسے حلال و حرام کا کس حد تک پتہ ہوتا ہے۔
نکاح سے پہلے کسی اجنبیہ کو طلاق کے الفاظ کہے ہوں ،تو نکاح کے بعد وہ الفاظِ طلاق نکاح پر اثر انداز نہیں ہوتے. لہذا سائل کو بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ہاں اگر اس کو الفاظ طلاق غالب گمان کے درجہ میں یاد آئیں تو ان کو لکھ کر دوبارہ بھیج دیں ان شاءاللہ مکرر غور کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0