جناب مفتی صاحب میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ دن میں پانچ نمازوں کے بعد ان سورتوں کو پڑھنے کا بڑا فائدہ ہے، ”فجر کی نماز کے بعد سورۃ یٰسین،ظہر کی نماز کے بعد سورۃ الفتح،عصر کی نماز کے بعد سورۃ النباء، مغرب کی نماز کے بعد سورۃ الواقعۃ، عشاء کی نماز کے بعد سورۃ الملک“مہربانی فرما کر اس بارے میں مسنون و افضل عمل کی طرف راہ نمائی فرمادیں۔
ظہر کی نماز کے بعد”سورۃ الفتح“ اور عصر کی نماز کے بعد”سورۃ النباء“ پڑھنے کا ثبوت حدیث کی معروف اور مستند کتب میں تلاش بسیار کے باوجود نہیں مل سکا، البتہ دن کی ابتداء میں”سورۃ یٰسین“ اور رات کے وقت”سورة الواقعۃ“اور”سورۃ الملک“ پڑھنے کا ثبوت صحیح احادیث مبارکہ میں موجود ہے۔
كمافي مشكاة المصابيح: عن عطاء بن أبي رباح قال بلغني أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من قرأ يٰسين فی صدر النهار قضیت حوائجه ۔ رواه الدار می مرسلاً۔ (1/189)
وفيه أیضاً: وعن ابن مسعود رضی اللہ عنه قال: قال رسول الله صلی الله عليه وسلم من قرأ سورة الواقعة فى كل ليلة لم تصبه فاقة ابدا وكان ابن مسعود رضی الله عنه يأمر بناته يقرأن بها فی كل ليلة۔ رواهما البيهقى فى شعب الايمان . (1/189)
وفيه أیضاً: وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا ينام حتى يقرأ: (آلم تنزيل) و(تبارك الذي بيده الملك) رواه أحمد والترمذي والدارمي۔ وقال الترمذي: هذا حديث صحيح. وكذا فی شرح السنة. اھ(1/188)