محترم مفتی صاحب السلام علیکم! ذکر کے متعلق مسئلہ پوچھنا تھا کہ اگر چہ سّری ذکر کرنا افضل ہے، لیکن سیکھنے کے لئے جہراً ذکر کیا جائے، مثال کے طور پر بچے جو پڑھتے ہیں یا جو نئے اسلام میں داخل ہوئے ہوں اور اجتماعی طور پر ذکر کیا جائے، کیا یہ بدعت میں شمار ہوتا ہے؟ بعض کا کہنا ہے کہ یہ بدعت ہے، کیونکہ یہ اسلام میں نئی چیز کا ایجاد کرنا ہے اور نبی علیہ السلام سے ثابت بھی نہیں ہے، تو کیا اس بارے کسی کتاب میں کوئی حدیث یا صحابی کا قول یا عمل ہے؟
اپنے اپنے مواقع پر سراً و جہراً دونوں طرح ذکر کرنا جائز اور ثابت ہے اور ان میں کسی صورت کو مطلقا بدعت قرار نہیں دیا جا سکتا، اگر محض سکھانے کی غرض سے ایسا کیا جائے اور بچوں یانو مسلم کے سیکھنے کے بعد یہ سلسلہ بند کر دیا جائے تو ایسا کرنے کی بلاشبہ اجازت ہے۔
کما في الدر المختار: هل يكره رفع الصوت بالذكر والدعاء؟ قيل نعم وتمامه قبيل جنايات البزازية. (6/ 398)
وفي رد المحتار: تحت (قوله وتمامه قبيل جنايات البزازية) أقول: اضطرب كلام البزازية فنقل أولا عن فتاوى القاضي أنه حرام لما صح عن ابن مسعود أنه أخرج جماعة من المسجد يهللون ويصلون على النبي - صلى الله عليه وسلم - جهرا وقال لهم "ما أراكم إلا مبتدعين" (إلى قوله) وقد حرر المسألة فی الخيرية وحمل ما فی فتاوى القاضي على الجهر المضر وقال: إن هناك أحاديث اقتضت طلب الجهر، وأحاديث طلب الإسرار والجمع بينهما بأن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص والأحوال، فالإسرار أفضل حيث خيف الرياء أو تأذي المصلين أو النيام والجهر أفضل حيث خلا مما ذكر، لأنه أكثر عملا ولتعدي فائدته إلى السامعين، ويوقظ قلب الذاكر فیجمع همه إلى الفكر، ويصرف سمعه إليه، ويطرد النوم ويزيد النشاط اهـ ملخصا. (6/ 398)