زید نے اسلم کو کہا کہ اگر تم کسی عورت سے نکاح کرو گے تو مجھ پر میری بیوی طلاق ہے اس بارے میں کیا حکم ہے ؟
صورت مسئولہ میں مذکور مسمی اسلم اگر کسی بھی عورت سے نکاح کرے گا تو اس کے نکاح کے ساتھ ہی شرط پائی جانے کی وجہ سے زید کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو جائیگی،جس کا حکم یہ ہیکہ وہ دوران عدت اپنی بیوی سے رجوع کر سکتا ہے البتہ آئندہ اُسے صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہیگا ۔ اسکے بعد اگر کبھی وہ بقیہ دونوں طلاقیں دیدیں تو اسکی بیوی مغلظہ ہو جائیگی ۔ اس لئے آئندہ طلاق کے متعلق احتیاط کی ضرورت ہے ۔
کما فی الھندیة: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا(1/420)
وفی ردالمحتار: إذا قال: كل امرأة أتزوجها طالق، والحيلة فيه ما في البحر من أنه يزوجه فضولي اھ(3/345)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0