السلام علیکم، شادی 2022 میں ہوئی.. 23 جولائی 2025 کو مستقل وجوہات کی بنا پر میں نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں دو طلاق دیں۔ہماری ایک بیٹی ہے۔ 23 تاریخ کو طلاق دینے کے بعد میں نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی۔ میں نے عالمِ دین سے رجوع کے بارے میں رہنمائی لی اور بتایا کہ اگر آپ اسی گھر میں رہیں تو رجوع آسان ہو سکتا ہے۔ 25 تاریخ تک میں نے یہ بات چھپائے رکھی، لیکن جب آپ نے اپنے گھر والوں کو بتایا تو انہوں نے آپ کو گھر بلا لیا، اور آپ 25 جولائ کو یہاں سے چلی گئیں۔
ایک ہفتے بعد جب میں نے بیٹی کو بلایا تو بیٹی نہیں دی گئی۔ پھر تقریباً 22 ستمبر کے قریب کچھ نوکریوں کی درخواستیں آئیں، جنہیں میں نے اپلائی کیا اور اپنی بیوی کو پیغام بھیجا کہ ان نوکریوں کے لیے اچھی تیاری کر کے ٹیسٹ دینا ہے، لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر 23 تاریخ کو دوبارہ پیغام بھیجا، کال کی، مگر کوئی جواب نہ ملا۔ آخر کار، میں نے دو بالغ گواہوں کو بتایا کہ وہ میرے رُجوع کے گواہ ہوں۔ 23 تاریخ کو میں نے اپنی بیوی کو پیغام دیا کہ میں نے رُجوع کر لیا ہے۔اب مجھے بتائیں کہ کیا یہ سارا عمل درست طریقے سے ہوا ہے؟ کیونکہ ان کے خیال میں رُجوع کے لیے ازدواجی تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے تحقیق کی، مجھے معلوم ہوا کہ اگر بیوی بات نہ سنے، تو طلاق کا اختیار مرد کو ہے، اسی طرح رُجوع کا اختیار بھی مرد کے پاس ہے۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
صورت مسئولہ میں سائل نے صریح الفاظ جیسے "میں طلاق دیتا ہوں" کے ذریعہ بیوی کو دو طلاقیں دینے کے بعد دوران عدت (جو کہ ماہواریاں آنے کی صورت میں تین ماہواریاں میں) رجوع کر لیا ہو، جس پر انہوں نے دو گواہ بھی بنائے ہوں اور اس رجوع کی اطلاع بیوی کو بھی دىدی ہو، تو اس سے یہ رجوع درست ہو کر میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار ہے اور ان دونوں کا ساتھ رہنا بھی درست ہوگا، جبکہ رجوع کی درستگی کے لیے ازدواجی تعلق قائم کرنے کو ضروری دینا شریعت سے نا واقفیت پر مبنی ہے۔
كما في الدر المختار: (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة اهـ (كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج: 3، ص: 397، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (إلى قوله) (إن لم يطلق بائنا) فإن أبانها فلا (وإن أبت) ، أو قال أبطلت رجعتي، أو لا رجعة لي فله الرجعة بلا عوض ألخ (ج: 3، ص: 398-400)
وفي الهندية: الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة.اهـ (كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، ج: 1، ص: 468، ط: مكتبة ماجدية)