میرے شوہر کو اُن کے خاندان کی جانب سے شدید جذباتی دباؤ کے بعد فون پر مجھے طلاق دینے پر مجبور کیا گیا۔ اُس وقت وہ بے روزگار تھے اور اب بھی بے روزگار ہیں، اور اُنہیں اپنے والد اور بھائی کے قرضے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ وہ میرے خلاف تھے کیونکہ میں ایک نو مسلم (ریورٹ) ہوں اور اُن کی کمیونٹی سے تعلق نہیں رکھتی۔ وہ مسلسل اُن پر دباؤ ڈالتے رہے اور یہاں تک کہ مجھے بدنام کرنے اور میری ساکھ خراب کرنے کے لیے ایک جھوٹا منظرنامہ بھی بنا لیا۔
اگرچہ میرے شوہر اس بہتان پر یقین نہیں رکھتے تھے، لیکن اُنہیں بار بار کہا گیا کہ اگر وہ طلاق نہ دیں تو اُنہیں خاندان سے نکال دیا جائے گا، بہن بھائیوں سے تعلق ختم کر دیا جائے گا، مالی مدد بند کر دی جائے گی، اور نہ کوئی مالی اور نہ جذباتی سہارا دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ بینک قرض بھی، جو اُن کا بھائی ادا کر رہا تھا، بند کر دیا جائے گا اور اُنہیں سب کچھ خود ہی سنبھالنا پڑے گا۔
اُن کا مجھے طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور اُنہوں نے مجھے بتایا کہ اُن کے بہن بھائی اُنہیں ڈرا رہے ہیں کہ اگر اُن کے والدین کو کچھ ہو گیا، جیسے کوئی سنگین بیماری یا موت، تو اس کا الزام ساری زندگی اُن دونوں (یعنی مجھ اور اُن) پر ڈالا جائے گا اور وہ قصوروار ٹھہرائے جائیں گے۔ وہ بہت خوفزدہ اور ذہنی طور پر پریشان ہو گئے تھے، اور اُن کے لئے ایک ہی راستہ چھوڑا گیا کہ وہ فون پر مجھے طلاق دے دیں۔
اُس وقت اُن کے والد ہی واحد گواہ تھے، جو خود بھی اُنہیں طلاق دینے پر مجبور کر رہے تھے۔ اُنہوں نے اس سے پہلے مجھے فون کیا اور کہا کہ اُن کا مجھے طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، لیکن اُنہیں خاندان کے سامنے دکھاوے کے لیے ایسا کرنا ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ جب میں فون کروں تو وہ کہیں گے کہ میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں اور فوراً فون بند کر دیں گے۔
مزید یہ کہ اُس دن دوپہر کو جب یہ واقعہ ہوا، میں حیض کی حالت میں تھی۔ اُسی رات، حیض ختم ہونے کے بعد ہمارے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہوا۔ اور جب اُن کے گھر والوں کو یقین ہو گیا کہ ہماری طلاق ہو چکی ہے تو اُنہوں نے اُنہیں تنگ کرنا چھوڑ دیا۔ لیکن ہم خفیہ طور پر اب بھی ساتھ رہ رہے ہیں اور ہمارا تعلق برقرار ہے۔ ہم نے عدالت میں بھی طلاق کا کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا۔
براہِ کرم ہمیں بتائیں کہ آیا ہماری طلاق درست (واقع) ہوئی ہے یا نہیں؟ کیونکہ بعض علماء کا کہنا ہے کہ اگرچہ طلاق بے ارادہ طور پر دی جائے تب بھی وہ واقع ہو جاتی ہے، اور یہ بات مجھے بہت خوفزدہ کر رہی ہے۔
مزید وضاحت کے لیے، فون پر ہونے والی گفتگو یہ تھی:
"آپ کو بتایا تھا نا کہ خاندان نہیں مان رہا، اور میں آپ کو طلاق دے رہا ہوں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ یہ رشتہ ختم ہو جائے، اور میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں"،
اور پھر انہوں نے فون بند کر دیا۔
صورت مسئولہ میں سائلہ کے سسرال والوں کا اس کے شوہر پر بلاوجہِ شرعی طلاق کے لیے دباؤ ڈالنا اگرچہ شرعاً ناجائز عمل تھا جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئے ہیں تا ہم جب زبانی طور پر طلاق دینے کی صورت ہو چاہے بغیر نیت کے اور کسی دباؤ کی وجہ سے اور حالت حیض میں کیوں نہ ہو ،بہر صورت وہ طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہذا جب سائلہ کے شوہر نے صراحةً تین دفعہ طلاق کے الفاظ بول دیے ہیں تو اس سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اب دوبارہ بغیر حلالۂ شرعیہ کے تجدید نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے دونوں پر لازم ہے کہ فی الفور ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرکے ہر قسم کے تعلقات ختم کرلیں ورنہ سخت گنہ گار ہوں گے۔
كما في الفتاوى الهندية: (فصل فيمن يقع طلاقه وفي من لا يقع طلاقه) يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغاً عاقلاً سواء كان حراً أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهره النيرة، وطلاق اللاعب والهاذل به واقع وكذٰلك لو أراد أن يتكلم بكلام فسبق لسانه بالطلاق فالطلاق واقع كذا في المحيط.(ج:1،ص:352،مط: ماجدية).
وفيه أيضًا :(الفصل الأول في الطلاق الصريح )وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحده راجعية وإن نوىٰ الأكثر أو الإبانة أو لم ينوي شيئاً.(ج:1،ص:354)
وفي الهداية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها والأصل فيه قوله تعالى: "فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره"(ج:2،ص:399،باب الرجعة،مط:شركت علمية ملتان).
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1