السلام علیکم ! میں آپ سے اسٹاک ایکسچینج کے حلال و حرام کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
واضح ہو کہ ہر کاروبار میں نفع و نقصان کا احتمال ہوتا ہے اس سے کاروبار کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا تاہم اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی خرید و فروخت درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:
۱: جس کمپنی کے شیئرز خریدے جا رہے ہیں وہ کمپنی کسی حرام کا روبار میں ملوث نہ ہو ۔
۲: اس کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک سیال اثاثوں یعنی نقد رقم کی شکل میں نہ ہوں، بلکہ کمپنی نے کچھ فکسڈ اثاثے حاصل کر لیے ہوں مثلاً بلڈنگ بنائی ہو یا زمین خرید لی ہو۔
۳: اگر کمپنی کا بنیادی کا روبار تو حلال ہو لیکن کمپنی سودی لین دین کرتی ہو تو اس صورت میں اس کی سالانہ میٹنگ میں سودی لین دین کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔
۴: چوتھی شرط جو حقیقت میں تیسری شرط کا ایک حصہ ہے وہ یہ کہ جب سالانہ منافع تقسیم ہو تو اس وقت شیئر ہولڈر انکم اسٹیٹ منٹ کے ذریعے معلوم کرے کہ آمدنی کاکتنا فی حصہ سودی ڈیپازٹ سے حاصل ہوا ہے پھر جتنا حصہ سودی ڈیپازٹ سے حاصل ہوا ہو، اس کو صدقہ کر دے، لہذا مذکورہ بالا تمام شرائط کی پابندی کے ساتھ اگر شیئرز کا کاروبار کیا جائے تو اس سے حاصل شدہ نفع بھی حلال ہوگا ۔
كما في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله: فلو تجانسا شرط التماثل والتقابض) أي النقدان بأن بيع أحدهما بجنس الآخر فلا بد لصحته من التساوي وزنا ومن قبض البدلين قبل الافتراق اھ (6/ 209)۔
وفي الدر المختار: (ولا يجوز بيعها) لحديث مسلم «إن الذي حرم شربها حرم بيعها» اھ (6/ 449)۔
وفي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وتصدق إلخ) أصله أن الغلة للغاصب عندنا؛ لأن المنافع لا تتقوم إلا بالعقد والعاقد هو الغاصب فهو الذي جعل منافع العبد مالا بعقده، فكان هو أولى ببدلها، ويؤمر أن يتصدق بها لاستفادتها ببدل خبيث وهو التصرف في مال الغير درر اھ (6/ 189) واللہ اعلم بالصواب
کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا
یونیکوڈ شیئرز کا کاروبار 0